طالبان کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد

طالبان کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد

طالبان انتظامیہ نے حالیہ اقدام کے تحت افغانستان کے پانچ شمالی صوبوں میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔

یہ پابندیاں قندوز، بدخشاں، بغلان، تخار اور بلخ کے علاقوں میں نافذ کی گئی ہیں۔صوبائی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال بعض اوقات اخلاقی اور سماجی اقدار کے خلاف ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا ہے۔یہ اقدام افغانستان میں 2021ء کے بعد پہلی بار سامنے آیا ہے، جب طالبان نے اقتدار سنبھالا۔ اس سے قبل، طالبان کی حکومت کے دوران انٹرنیٹ پر محدود پابندیاں عائد کی گئی تھیں، لیکن حالیہ پابندی پورے شمالی خطے میں ایک غیر معمولی اور وسیع سطح پر نافذ کی گئی ہے۔پابندی کے اثرات کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

 بعض حلقے اسے ایک سخت اقدام قرار دے رہے ہیں، جو آزادی اظہار کا محدود کرنا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معاشرتی اخلاقیات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔طالبان حکومت کے اس فیصلے کے سبب مقامی لوگوں اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، خاص طور پر تعلیم، تجارت، اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی سطح پر بھی اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے انسانی حقوق اور معلومات کے آزادانہ بہاؤ کے اصولوں کی خلاف ورزی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔