کیوبا میں حالیہ ملک گیر بلیک آؤٹ کے بعد سوشل میڈیا پر سوالات شدت اختیار کر گئے کہ آیا امریکا نے کیوبا پر حملہ کیا ہے، تاہم حکام نے کسی بھی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔
کیوبا کے حکام کے مطابق پیر کے روز پورے ملک کا بجلی کا نظام اچانک بند ہو گیا، جس کے نتیجے میں 1 کروڑ سے زائد افراد اندھیرے میں ڈوب گئے۔ کیوبن وزارتِ توانائی نے کہا کہ پاور گرڈ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے اور بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران بنیادی طور پر شدید توانائی کی قلت، ایندھن کی کمی اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کا نتیجہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ آئل کی پابندیوں نے کیوبا کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کیوبا پہلے بڑی حد تک وینزویلا سے تیل درآمد کرتا تھا، لیکن اب سپلائی میں شدید کمی کا سامنا ہے۔
میگوئل ڈیاز کینل کے مطابق گزشتہ 3 ماہ سے ملک کو تیل کی بڑی کھیپ موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث متبادل ذرائع جیسے شمسی توانائی، قدرتی گیس اور تھرمل پاور پلانٹس پر انحصار بڑھ گیا ہے، لیکن یہ طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد تیل خود پیدا کرتا ہے، مگر یہ مجموعی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ’آپریشن ابسلیوٹ ریزولو‘ کے بعد خطے میں سیاسی کشیدگی بڑھ چکی ہے، جس کے اثرات توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور کیوبا کے درمیان جاری مذاکرات میں اس بحران کے حل پر بات چیت کی جا رہی ہے۔