ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر روس کا سخت ردِعمل

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر روس کا سخت ردِعمل

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تفصیلی ردعمل کا مستند خلاصہ ہے جو مختلف معتبر بین الاقوامی ذرائع سے سامنے آیا ہے:

 شدید مذمت اور سنگدلانہ قتل قرار
پوتن نے آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے قتل کو ’’سنگدلانہ قتل‘‘ اور ’’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق یہ قتل انسانی حقوق اور عالمی ضوابط کے تمام معیاروں کو پامال کرتے ہوئے انجام دیا گیا ہے۔ پوتن نے اسے صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

 گہرے دکھ اور تعزیت
پوتن نے ایک سرکاری تعزیتی پیغام روس سے ایران کے صدر مسعود بزِشکیان کو بھیجا، جس میں انہوں نے:ایرانی قیادت، عوام اور شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔کہا کہ خامنہ ای نے روس-ایران تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک قابلِ احترام ریاست‌ساز رہنما تھے جن کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔
 بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کا حوالہ
پوتن نے اپنے پیغام میں بین الاقوامی انسانی اخلاقیات اور قانون کا بار بار ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات بین الاقوامی نظام اور امن کی خلاف ورزی ہیں، اور ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

بیان میں خطے کی کشیدگی اور عالمی سیاست
اگرچہ پوتن نے واضح طور پر امریکی یا اسرائیلی حکومت کا براہِ نامہ الزام نہیں لگایا، لیکن خط اور بیانات کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ وہ اس حملے کو عالمی قواعد اور ضوابط کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ Russia کی خارجہ پالیسی میں بھی فوجی کارروائیوں کی شدت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا گیا ہے، اور ملک نے **کشیدگی کو ناروا قرار دیتے ہوئے اس کے روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

 روس-ایران تعلقات کے پسِ منظر
روس نے ایران کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری اور قریبی فوجی تعاون قائم کیا ہوا ہے، خاص طور پر یوکرین بحران کے تناظر میں۔ پوتن کے ردعمل سے یہ بھی جھلکتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کو نہ صرف اخلاقی طور پر غلط قرار دیتے ہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بھی سمجھتے ہیں۔