آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی طریقہ کار

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی طریقہ کار

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی رضا اعرافی کو ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

4 دہائیوں تک ایران کی قیادت کرنے والے خامنہ ای نے کسی کو باقاعدہ جانشین منتخب نہیں کیا تھا، لیکن ایرانی آئین میں قیادت کے تسلسل کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت سپریم لیڈر کی وفات یا معزولی کی صورت میں 88 سینئر علماء پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری پابند ہے کہ وہ جلد از جلد نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کریں۔نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک عبوری کونسل قائدانہ ذمہ داریاں سنبھالتی ہے، جس میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کا ایک فقیہ شامل ہوتا ہے۔عبوری کونسل کے ارکان: صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی، اور قانونی کونسل سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار محمد مخبر۔عبوری کونسل سپریم لیڈر کے اختیارات استعمال کرے گی جب تک مجلسِ خبرگان نئے رہنما کی تقرری کا اعلان نہیں کرتی۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا چیلنج ہو سکتا ہے۔
اہم شرائط:

نئے سپریم لیڈر کا مرد، شیعہ عالمِ دین ہونا ضروری ہے۔سیاسی بصیرت، اخلاقی اتھارٹی اور ایران سے مکمل وفاداری لازمی ہے۔