امجد علی
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
دنیا ہر لمحہ تغیر میں ہے، اور انسان اس تغیر کے سفر کا دائمی شاہد ہے۔ کائنات کی لاتعداد انواع و اقسام، اشیاء کی حقیقتیں خاموش جھروکوں سے جھانکتی ہیں، اور انسان کے دل کی تشنگی انہی سربستہ رازوں سے مسلسل نقاب کشائی کی جستجو کبھی قرار نہ پا سکی۔قرآن مجید محض فصاحت و بلاغت کا معجزہ نہیں، بلکہ انسان اور کائنات کے درمیان پوشیدہ حقائق کی کنجی ہے۔ انسانی شعور قرآنی لفظیات، جملوں کی ترتیب و ترکیب، اسلوب، بیان و معنی کو پر عطا کرنے والی بلاغت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ صدیوں کے فکری افق پر تخت بلقیس کا انا، اصحاب کہف کی نیند، موسیٰ و خضر کا مکالمہ، فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونا اور ولادت عیسیٰ جیسے بے شمار محیر العقول عقل سلیم کو جھنجوڑ دینے والے حیرت انگیز واقعات نقش ہیں، مگر واقع? معراج ایک ایسا لمحہ ہے جس نے انسانی شعور کے پرسکون سمندر میں تلاطم خیز، طوفانی ارتعاش پیدا کر دیا۔ عقل کے دعوے لرز گئے اور فہم کے پرندے کہیں ہواؤں میں تھم گئے۔معراج وہ مقدس لمحہ ہے جہاں زمین و آسمان فاصلوں کے باوجود قربت میں گندھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ جب عبد کامل ? مکہ کی خاموش رات سے اس سفر رفعت پر روانہ ہوئے تو وقت سمٹ گیا، فاصلے اپنی معنویت کھو بیٹھے، اور کائنات سراپا دلہن سجی ہوئی تھی۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک راستے درود و سلام سے معطر ہوئے، فضائیں صلوٰ? کی بازگشت سے مزین رہیں، اور فرشتے، قمریاں، حور و غلمان سب کمال ادب کے ساتھ آپ کی رہگزر میں جابجا استقبال کی خاطر صف بستہ دست بستہ منتظر تھے۔ کہ جان عالم، شان مدینہ، راحت مومنین قلب و سینہ، مہمان اولین و آخرین محبوب احسن الخالقین عرش کبریا پر تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں نوری، ناری اور خاکی سب عترتین کی دل و نگاہ اور لبوں پر بمصداق محبت، کلمات مدحت رسول جاری تھے
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیے ہیں
جس سمت چل دئیے ہیں دربے بہا دئیے ہیں
پھر چہار سو افلاک، سدرۃالمنتہی اور عرش کریم کا منظر نوری جھلملاتی رنگینیوں اور خوبصورتیوں سے سجا آنکھیں خیرہ کر رہا تھا یہ سفر چشم کشا حیرتوں سے لبا لب تھا بلکہ شعور کی معراج، بندگی کی انتہا اور قرب الٰہی کی بلند ترین مثال بھی تھا۔ نہ آپکی نظر بھٹکی، نہ قدم ڈگمگائے، اور عبد وہاں پہنچا جہاں عقل باکمال حیرت سجدہ ریز ہوتی ہے۔ اسی شان عبدیت اور وقار تقدیس کے ساتھ آپ واپس تشریف لائے تاکہ آسمانی پیغام زمین والوں کے دلوں تک اتر جائے، اور انسانیت کو اس لمحے اس کا اصل قدر منزلت کے آفق پر سربلند باوقار قد کل عالمین کے روبرو دکھایا جائے۔ اسی لمحے شان و مقام مصطفے'? کو دیکھ کر اقبال کہہ اٹھے۔۔
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہیں یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے۔
عام طور پر معراج کو ایک غیر معمولی سفر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، مگر قرآن کا اسلوب، اس کے الفاظ کا انتخاب اور احادیث نبویہ کی رہنمائی یہ واضح کرتی ہے کہ معراج نہ صرف جسمانی اور نہ محض روحانی تھا، بلکہ یہ ایک شعوری انکشاف تھا۔ جسم، روح، زمان و مکان سب کی حدیں اس لمحے تحلیل ہو گئیں۔ یہ وہ گھڑی تھی جب انسان، کائنات اور حقیقت مطلقہ کے درمیان ربط پوری طرح عیاں ہوا۔قرآن جس واقعے کو بیان کرے وہ تاریخ میں ثبت ہو جاتا ہے، مگر معراج وہ واقعہ ہے جس نے انسان کی عظمت کو محض وقار نہیں بلکہ شعور کی نئی بلندی عطا کی۔ قرآن محض پڑھنے کے لیے نہیں، بیداری کے لیے ہے۔ یہ ایمان کو یقین میں اور یقین کو جستجو میں بدل دیتا ہے۔ اس سے جڑو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کے حجابات آہستہ آہستہ سرک رہے ہوں، اور زمینی ذروں سے لے کر افلاکی کہکشاؤں اور عرشی اسرار تک سب ایک ہی ترتیب و تسلسل میں جلوہ گر ہو رہے ہوں۔قرآن کے دل نشیں اسلوب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ متجسس ذہن کے لیے محض احکامات نہیں بلکہ اشارات فراہم کرتا ہے۔ وہ فطرت کے دامن میں قدموں کے نشان رکھتا ہے، جیسے کہہ رہا ہو، رکو نہیں، آگے بڑھو، دیکھو، سوچو، پرکھو اور پھر آگے چلتے جاؤ۔ عقل والوں کو بار بار مخاطب کر کے یہ کتاب فطرت کے خاموش قوانین کو بولنا سکھاتی ہے، پوشیدہ نظم کو قابل فہم بناتی ہے اور کائنات کو کھلی نشانیوں میں بدل دیتی ہے۔ واقع? معراج اسی سلسلے کی ایک درخشاں کڑی ہے لفظ لفظ، قدم قدم حیرت جس سے مقصود سطحی ذہن کی تردید نہیں بلکہ اہل دانش کو دعوت تحقیق دینا ہے۔
قرآن واقعہ معراج کا آغاز ان الفاظ سے کرتا ہے
’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی آپنے بندے کو رات کے مختصر پہر میں’’ وہ ذات سراپا تقدیس ہے، ہر نقص، ہر امکان اور ہر حد سے ماورا۔ وہی جس کے اختیار میں کن فیکون ہے، جس نے اپنے بندے کو رات کے ایک مختصر حصے میں سیر کرائی۔ یہاں صرف تقدیس تسبیح نہیں بلکہ اس طاقت کا اعلان ہے جو زمان و مکان کو لمحے میں سمیٹ دیتی ہے۔ وہ بابرکت اللہ انہیں لے گیا۔ کس لیے کے گیا؟ کس سے ملنے کے لیے کے گیا؟ لفظ "عبد" رسول اکرم کے اس کامل مقام کی طرف اشارہ ہے جہاں جسم، روح، شعور اور اطاعت ایک وحدت بن جاتے ہیں۔ یہی اس سوال کا قطعی جواب ہے کہ معراج روحانی تھی یا جسمانی، کیونکہ اگر روح الگ اور جسم غیر حاضر ہوتا تو قرآن ‘‘عبد’’ نہ کہتا۔ یہ کہنا اس لیے بھی زیادہ مناسب اور مدلل ہے کہ عربی زبان اپنی زخامت میں اسی لیے مشہور ہے کہ اس میں ہر حالت کے لیے الگ لفظ موجود ہے ابتدا ہی میں ہی عبد کہہ کر یہ مناظرہ ختم کر دیا گیا۔ سورہ النجم میں اس تجربے کا فیصلہ کن مرحلہ سامنے آتا ہے۔ وہ مقام جہاں مشاہدہ اور حقیقت پہلی بار آمنے سامنے آتے ہیں۔ ترجمعہ: ‘‘نہ نظر بہکی اور نہ حد سے آگے بڑھی’’
یہ محض آنکھ کا ضبط نہیں بلکہ شعور کی دیانت ہے۔ تو کیا " نہ بہکنا" اور "حد" آداب جبرائیل امین کے لیے تھا؟ یہ اعتبار محل وقوع سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جبرائیل امین علیہ السلام تو خود دربار مصطفوی میں داخل ہوتے تو ہزار آداب ملحوظ رکھتے تھے۔
پھر فرمایا
‘‘جو دیکھا اس پر شک نہ کیا’’
یہاں کذب اخلاقی مفہوم نہیں بلکہ شک، وہم اور داخلی انکار کی مکمل نفی ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں سوال فنا ہو جاتا ہے اور وصال شرط صدق پر قائم ہوتا ہے۔ احادیث نبویہ اس واقعے کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔ براق، بیت المقدس اور نماز کی فرضیت یہ سب اسی حقیقت کی دلیل ہیں کہ شریعت کے عملی احکام خواب میں فرض نہیں ہوتے۔ صوفیانہ فکر، خصوصاً ابن عربی، اسی حقیقت کی توثیق کرتی ہے کہ نبی ? کی معراج روح اور بدن دونوں کے ساتھ تھی، کیونکہ کمال آدھے وجود سے حاصل نہیں ہوتا۔اس شب حضرت محمد کائنات کے مسافر نہ تھے، آپ جب سوئے عرش تشریف لے گئے تو فرش سے عرش تک ہر ہر کھلی مگر ساکت آنکھ حبیب رب کبریا کی پرواز و مقام کی طرف بیخود، شوق وتحیر میں غرقیدہ، محو دیدار تھی اس لمحہ کائنات خود محمد کے شعور میں سمٹی ہوئی تھی۔ اسی لیے فرمایا گیا
’’پھر ہم نے اسے اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘یہ دیکھا یا دکھایا جانا جاگتی آنکھ اور حاضر دل کا مشاہدہ تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ نماز اسی معراج کے پس منظر میں فرض ہوئی، اور پھر نماز ہی کو مومن کی معراج قرار دیا گیا۔ سجدہ وہ لمحہ ہے جہاں خاک آدم عرش سے ہم کلام ہوتی ہے۔ تب عبد مقام معراج پر پہنچتا ہے۔ اہل مکہ نے سوال اٹھائے، انکار کیا، مگر حضرت ابوبکر صدیق کا مختصر مگر ابدی جملہ ‘‘اگر محمد نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے’’صدق و کذب کے درمیان ہمیشہ کے لیے فرقان بن گیا۔ یہ کہنا ابوبکر کو عرش کریم سے جاری کردہ "صدیق اکبر" جیسی بیمثال سند صداقت دے گیامحلات ربانی کی راہگزاروں میں کمسن عقل کو رسائی کہاں۔ پھر اس کے ذریعے آپ واقعہ معراج کو چشم دلائل سے کیسے سمجھ پائیں گے۔ یہاں تو صرف اداب، اطاعت اور عجز سے لطف میسر اتا ہے عقلی قضئے میں کہاں ڈھونڈ پائیں گے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ عقل سے بہترین خادم اور بدترین آقای کوئی نہیں۔
شوق و نیاز و عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
یہ کوچہء حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ
جس مالک کی یہ شان کہ کل کائنات اگر اس کی دشمنی میں مجتمع ہو جائے تو اس کی حیثیت رب کائنات کے روبرو ایک مچھر کے پر جتنی بھی نہیں۔ اسی تمثیل کو سامنے رکھ کر کل انسانیت کے مفکرین جمع کر لیں تو کیا ان کی حیثیت اس مکھی کے پر سے بڑھ جائے گی ہرگز نہیں۔۔ تو اس عقل وشعور کی حیثیت دیکھ لو پھر سمجھ لو کہ اس کے حضور مباحث کلی عبث ہیں۔ اہل فکر و دانش کے ادراک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ افلاک پر سجدے کے واقعہ میں ماننے والے بلندی درجات کے حقدار اور مقربین ٹھرے اور منکر اولیں راندئے درگاہ ہوا۔ بعینہ واقعہ معراج میں جس نے بلاتوقف بلاتعمل مہر تصدیق ثبت کرنے والے رتبوں میں بلند ہو گئے اور منکرین کرلاتے رہ گئے۔
واقعہ معراج دراصل معراج انسانیت کا وہ لمحہ ہے۔ جب مخلوقات عالمین کے مابین منعقدہ انتخاب میں، محبوب رب کائنات کے طور پر فخر انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ سرخرو اور سربلند ٹھہرے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ محمد کہاں تک گئے۔ یہ خاک سے افلاک تک شعور کے سفر کا نام ہے۔ واقعہ معراج دراصل معراج واقعات ہے جو بتاتا ہے کہ جو نشان دہی کرتا ہے انسان کے لیے کہاں تک نشان راہ موجود ہیں وہ تحقیق کا راستہ اختیار کرے تو کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ معراج انسان کے عروج کی حد ہے۔ معراج انسان کی دور بہت دور افتادہ اپنی اصل سے وصل کی منزل کے تاریک راستوں کے چمکتے امکان کا نام ہے۔ یہ صحیفہ انسان کو جمود سے نکل کر حرکت کی رغبت دیتا ہے۔ ستاروں کی گردش ہو یا ذرے کی تھرتھراہٹ، قرآن ہر سطح پر شعور کو بیدار کرتا ہے کہ تحقیق کرو، دریافت کرو، اور تخلیق کے اس عظیم عمل میں شریک ہو جاؤ۔ یہ وہ رہنمائی ہے جو انسان کو رکنے نہیں دیتی، جو اسے بتاتی ہے کہ کیسے ایک جست میں خاک سے افلاک کی مسافت طے کی جائے گی۔۔۔۔
مجھ سا حرف ناآشنا یہ جسارت کیسے اور کیونکر کر سکتا ہے کہ محبوب رب کائنات، بے مثل و بے مثال حسن و سیرت کے حامل، وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ? کے اقوال و افعال کے حسن لازوال کو دائر? الفاظ میں سمیٹ سکے۔ یہ تحریر دراصل ایک استدعا ہے، شہ لولاک ? کے حضور عقیدت اور سلام کی ایک سعی ناتمام ہے۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ اس میں ہر سہو، لغزش اور نقص کلام سے محفوظ رکھے، درگزر فرمائے، اور سخن کو حدود دعا میں رکھنے کی توفیق بالخیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔