یروشلم: اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ حکومت کی غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل دفاع اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا:"اگر یہ جنگی جرائم نہیں تو پھر اور کیا ہیں؟"انہوں نے واضح کیا کہ وہ اب نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کا دفاع نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اقدامات اسرائیل کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کر رہے ہیں۔
ایہود اولمرٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ اور ان کی کابینہ کے کچھ ارکان دانستہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے برخلاف ہیں، اور یہ طرزِ عمل اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر میں نیتن یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ کئی عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دے چکی ہیں۔