ایک برس کے دوران 178 اغواء شدہ، گمشدہ اور گھر سے بھاگے بچوں کو والدین کے حوالے کیا گیا
لاہور(کرائم رپورٹر) سی سی ڈی انسدادِ اغواء برائے تاوان سیل کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری، 178 اغواء ، گمشدہ اور گھر سے بھاگے بچوں کو بازیاب کروا لیا تفصیلات کے مطابق سی سی ڈی انسدادِ اغواء برائے تاوان سیل لاہور نے اپنی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران 178 اغواء شدہ، گمشدہ اور گھر سے بھاگے ہوئے معصوم بچوں کو تلاش کرکے بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کیا گیا۔سیل کی بروقت کارروائیوں سے درجنوں خاندانوں کی خوشیاں لوٹ آئیں اور والدین کے آنسو مسکراہٹ میں بدل گئے۔ بازیاب کیے گئے بچوں کو داتا دربار، ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈز اور لاہور کے مختلف علاقوں سے ریکور کیا گیا، جبکہ ان کے والدین نے بچوں کے اغواء کے مقدمات ملک کے مختلف تھانوں میں درج کروا رکھے تھے۔رپورٹ کے مطابق بازیاب ہونے والے بچوں کا تعلق لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، قصور اور دیگر اضلاع سے تھا۔ بچوں کے اغواء میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کے مطابق بازیاب ہونے والے بچوں کی ماہرِ نفسیات سے کونسلنگ بھی کروائی گئی، جبکہ منشیات یا جنسی زیادتی کا شکار بچوں کو طبی امداد اور خصوصی نفسیاتی معاونت بھی فراہم کی گئی تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ انسدادِ اغواء برائے تاوان سیل ایدھی سینٹرز، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے بچوں کی بازیابی، تحفظ اور بحالی کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے۔سی سی ڈی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نابالغ بچوں کے جنسی استحصال، چائلڈ ٹریفکنگ، ہراسمنٹ، جبری مشقت اور بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جرم کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بچوں کے اغواء اور استحصال کے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بھرپور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وڑن کے مطابق بچوں سے زیادتی، استحصال اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کو ریڈ لائن قرار دیا گیا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔