بھارتی شہر ممبئی کے علاقے نیرل میں مسلمانوں کے لیے متعارف کرائے گئے ایک نئے رہائشی منصوبے نے ہندو انتہا پسندوں کو مشتعل کر دیا ہے۔
منصوبے کو "حلال لائف اسٹائل ٹاؤن شپ" کا نام دیا گیا ہے جس کی تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں اور ہندو تنظیموں نے اس منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مخصوص مذہبی طبقے کو مضبوط کرنے اور علیحدہ شناخت قائم کرنے کی کوشش ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک باحجاب خاتون کو یہ کہتے دکھایا گیا کہ ٹاؤن شپ ایک "حقیقی کمیونٹی لائف" فراہم کرتا ہے جہاں یکساں سوچ رکھنے والے خاندان رہ سکیں گے، بچے "حلال ماحول" میں پروان چڑھیں گے، اور رہائش کے قریب ہی نماز اور کمیونٹی سرگرمیوں کی سہولت موجود ہوگی۔اس معاملے پر قومی کمیشن برائے تحفظ حقوقِ طفل (NCPCR) کے چیئرمین پرینک کانونگو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے "قوم کے اندر قوم" قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے مہاراشٹرا حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ترجمان کرشنا ہیگڑے نے بھی منصوبے پر سوال اٹھاتے ہوئے وائرل ویڈیو کو فوری طور پر ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا اور ریاستی حکومت سے اس منصوبے پر تحقیقات کی اپیل کی۔بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع بھارت میں مسلمانوں کے سماجی اور مذہبی طرزِ زندگی پر بڑھتے دباؤ کی تازہ مثال ہے، جہاں اکثر کمیونٹی پروجیکٹس کو مذہبی منافرت کی نظر کر دیا جاتا ہے۔