وزیراعظم شہباز شریف کا نادہندگان اور تمام صنعتوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ، ٹیکس نیٹ میں توسیع کی ہدایات جاری

وزیراعظم شہباز شریف کا نادہندگان اور تمام صنعتوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ، ٹیکس نیٹ میں توسیع کی ہدایات جاری

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نادہندہ افراد اور تمام صنعتوں کی پیداوار کو ڈیجیٹائز کرکے انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرے، تاکہ محصولات میں اضافہ اور معیشت کی شفافیت ممکن ہو سکے۔

یہ ہدایات وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور دیگر اصلاحات کے حوالے سے ہونے والے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو مالی سال 2024-25 کی ٹیکس وصولیوں اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 ریکارڈ ٹیکس وصولی
بریفنگ کے مطابق موجودہ مالی سال میں 865 ارب روپے کی اضافی محصولات جمع کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ ہیں۔ ایف بی آر کی مجموعی آمدن کا جی ڈی پی سے تناسب 11.3 فیصد رہا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔

وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت دی کہ:تمام صنعتوں کی پیداوار اور ترسیل کے عمل کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کیا جائے۔ٹیکس نادہندہ افراد اور اداروں کی نشاندہی کرکے ان کی پیداوار کو بھی ڈیجیٹائز کیا جائے۔ریٹیل شعبے میں پوائنٹ آف سیل (POS) نظام کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے۔محصولات کی وصولی میں عزت و تکریم کے ساتھ ٹیکس دہندگان سے پیش آیا جائے۔
 صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس کا نفاذ
وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ:چینی، تمباکو اور کھاد (فرٹیلائزر) کے شعبوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مکمل طور پر نافذ ہو چکا ہے۔سیمنٹ اور دیگر صنعتوں میں جلد ہی مکمل نفاذ متوقع ہے۔
 وزیراعظم کی براہ راست نگرانی
شہباز شریف نے واضح کیا کہ محصولات اور معاشی اہداف کی ذاتی نگرانی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کے لیے کسی قسم کی سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

 اجلاس میں شرکت
اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری پر شرکاء کو مبارکباد بھی دی، اور ہدایت کی کہ کاروباری برادری اور ٹیکس دہندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔