سعودی عرب نے کام کرنے والی خواتین، خواہ وہ سعودی ہوں یا غیر ملکی، کے لیے زچگی کے بعد تین ماہ تک مکمل تنخواہ یوم ادھا کرنے کا نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔
یہ سہولت 2 جولائی 2024 کو شاہی فرمان کے ذریعے منظور کی گئی تھی اور 1 جولائی 2025 سے جنرل سوشل انشورنس (GOSI) کے تحت نافذ ہو چکی ہے ۔
اہم نکات
دفاتر اور شعبے: یہ قانون سرکاری و نجی شعبوں میں یکساں طور پر لاگو ہوگا، بشرطیکہ ملازمت کے شروع میں اشتراک نہ کیا ہو ۔
ملازمت کی شرط: خواتین کو بچّے کی ولادت سے تین ماہ تک روزانہ تنخواہ (زچگی الاؤنس) ملے گی ۔
اضافی معاوضہ: اگر نوزائیدہ بیمار یا معذور ہو، تو مزید ایک ماہ معاوضہ مل سکتا ہے، حالانکہ یہ اضافی تنخواہ شرائط پر منحصر ہے ۔
مالی تفصیلات
رقم کا حساب: GOSI ادا کرے گی جوکہ پچھلے تین برسوں کی اوسط ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر ہوگی ۔
مہینہ مکمل اجرت: اینشورنس کے تحت تین ماہ تک تنخواہ مکمل ادا ہوگی، جو کہ پہلے کسی ادارے یا آجر کے ذریعے ادا کی جاتی تھی ۔
سماجی اثرات اور حکومتی مقصد
ورک لائف بیلنس: عورتوں کی فلاح و بہبود اور ملازمت کو برقرار رکھنے کا مقصد تسلیم کیا جا رہا ہے ۔
عدالتی مساوات: سرکاری اور نجی شعبے میں ملازمت کرنے والی خواتین کو یکساں حقوق فراہم کیے گئے ہیں ۔
خصوصی شرائط
ملازمت کا وقفہ: یہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے خواتین کو گزشتہ 36 ماہ میں کم از کم 12 ماہ کے لیے GOSI میں اشتراک کرنا ضروری ہوگا ۔
صرف نئے ملازمین: یہ قانون ان خواتین پر لاگو ہوگا، جو پہلی بار یا کسی نئے شعبے میں ملازمت کر رہی ہیں ۔
پیش رفت کا جائزہ
یہ قانون ملازمت پیشہ خواتین کو طویل عرصہ سے مطلوبہ انصاف فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو بچوں کی پیدائش کے بعد روزگار سے دور رہتی ہیں۔ اسے خواتین کی کارکن کی حیثیت مضبوط کرنے اور محکمہ ہائرنگ میں تنوع بڑھانے کے تناظر میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔