جاپانی حکومت نے آبادی میں مسلسل کمی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اپریل 2026ء سے زچگی کے تمام اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی۔
اس فیصلے کو ملک کی آبادی کی پالیسی میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
پالیسی کی اہم تفصیلات:
1. حکومتی اخراجات میں شمولیت:
زچگی کے دوران اسپتال کے اخراجات
ڈاکٹری معائنے
نرسنگ کی سہولتیں
اور دیگر بنیادی طبی خدمات
ان سب پر مکمل مالی معاونت حکومت کی طرف سے فراہم کی جائے گی۔
2. موجودہ صورتحال:
جاپان میں فی الوقت بچے کی پیدائش پر اوسطاً 500,000 ین (تقریباً 3,200 امریکی ڈالر) خرچ آتا ہے۔
یہ رقم کئی متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بھاری مالی بوجھ ہے۔
پس منظر: شرحِ پیدائش میں کمی
جاپان کو آبادی میں کمی، عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور نوجوان نسل کے شادی و بچوں سے اجتناب جیسے شدید سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔
شرحِ پیدائش گزشتہ کئی سالوں سے ریکارڈ کم سطح پر ہے، جس نے حکومت کو سخت اقدامات لینے پر مجبور کیا ہے۔
پالیسی کا مقصد:
خاندانوں کو بچوں کی پیدائش کی طرف راغب کرنا
زچگی کو مالی لحاظ سے بے فکر اور آسان بنانا
ملکی سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کو مستحکم کرنا
عوامی اور ماہرین کا ردعمل:
سماجی ماہرین نے اسے ایک "مثبت اور دوراندیش فیصلہ" قرار دیا ہے۔
عوامی حلقے بھی اس پالیسی کو خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے کو شفاف اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ جاپان کے مستقبل کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی تناظر:
جاپان دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں شرحِ پیدائش مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اس فیصلے کو دیگر ممالک بھی مثالی اقدام کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر وہ جو آبادی میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔