یورپ اس وقت اپنی تاریخ کی ایک شدید ترین گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث نہ صرف معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اموات، اسکولوں کی بندش اور جنگلاتی آگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
فرانس میں 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت، 1900 اسکول بند
فرانس کے محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث تقریباً 1,900 اسکولوں کو حفاظتی اقدام کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔ پیرس میں ایفل ٹاور کی بالائی منزل بند کر دی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو شدید گرمی کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اٹلی میں کام پر پابندی اور اموات
اٹلی کے کئی علاقوں، خصوصاً بولونیا اور سسلی میں دوپہر کے اوقات میں باہر کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث ایک مزدور بولونیا میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ سسلی میں ایک دل کی مریضہ خاتون جان کی بازی ہار گئیں۔ شدید گرمی کے اثرات کے باعث بارسلونا میں ایک صفائی کے کارکن کی موت کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔
ترکی میں جنگلاتی آگ، 50,000 افراد متاثر
ترکی کے شہر ازمیر، مانِیسا اور ہاتائے میں جنگلاتی آگ کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے باعث 50,000 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم
یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کے مطابق یورپ اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت دنیا کے اوسط سے دو گنا زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
دیگر اثرات: ریل سروس معطل، رات کو فصلیں کاٹنے پر مجبور
شدید گرمی کے باعث پیرس-میلان ریل سروس کو مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ فرانس میں کاشتکاروں کو رات کے وقت فصلیں کاٹنی پڑ رہی ہیں تاکہ دن کی تپش اور فصلوں میں آگ لگنے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
ماہرین: یہ گرمی غیرمعمولی ہے
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں برس کی گرمی "غیر معمولی" نوعیت کی ہے، کیونکہ اس سطح کی شدید گرمی عام طور پر گرمیوں کے اختتام پر دیکھی جاتی ہے، نہ کہ موسم کے آغاز میں۔ یہ صورتحال ماحولیاتی تبدیلیوں کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
نتیجہ: فوری اقدامات ناگزیر
ماہرین، ماحولیاتی ادارے اور حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف فوری عالمی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس نوعیت کی شدید موسمی آفات معمول بن سکتی ہیں۔