یورپ میں شدید گرمی کی لہر، فرانس میں 5 اموات، متعدد حادثات اور نظامِ زندگی متاثر

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، فرانس میں 5 اموات، متعدد حادثات اور نظامِ زندگی متاثر

یورپ کے بیشتر ممالک اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے اور مختلف حادثات میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے۔

فرانس میں شدید گرمی کے باعث اب تک 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ اسی دوران مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو غیر محفوظ اور غیر نگرانی والے مقامات پر تیراکی سے سختی سے منع کر دیا ہے۔فرانسیسی حکام کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث اسکول بند کر دیے گئے ہیں یا ان کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جبکہ متعدد ٹرین سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق وسطی فرانس کے شہر پواتیے میں 78 سالہ درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اسی طرح مغربی شہر بوردو میں 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کا ریکارڈ بھی توڑ گیا۔جنوب مشرقی شہر کارپانترا میں افسوسناک واقعے میں 2 اور 4 سال کے دو بچے گاڑی میں بے ہوش پائے گئے۔ امدادی کوششوں کے باوجود دونوں بچے جانبر نہ ہو سکے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اصل وجہ کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم شدید گرمی کو بنیادی سبب سمجھا جا رہا ہے۔

 اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں تین بزرگ افراد بھی ہیٹ ویو کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔برطانیہ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ اس ہفتے جون کے مہینے کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں ہیٹ ویو کے باعث ریڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ریڈ وارننگ کا مطلب ہے کہ گرمی انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہو سکتی ہے، جس سے بجلی، ٹرانسپورٹ اور ریلوے نظام متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔اسی طرح اسپین، اٹلی اور بیلجیئم میں بھی شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ یورپ بھر میں ماہرین نے شہریوں کو احتیاط برتنے، پانی زیادہ پینے اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔