وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، امیر مقام، نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مذاکرات پی ٹی آئی کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ نئے سال کے پہلے دن منتخب نمائندوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور ایک مجرم کو بچانے کے لیے احتجاج کو جائز قرار دیا گیا، جبکہ منتخب نمائندوں پر حق مانگنے پر لاٹھی چارج کیا گیا۔امیر مقام نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی جمہوریت کی بات کرتی ہے لیکن دوسری طرف ان کے منتخب نمائندوں پر تشدد کیا گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تین سال ہو گئے، ان کا حق نہیں دیا گیا اور این ایف سی ایوارڈ میں ان کا حصہ کم رکھا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے لیکن دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے سے صرف نقصان ہوا، پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا، اور سی پیک منصوبہ منسوخ کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا اختیار عدالت کے پاس ہے، اور اس کے لیے کسی ڈیل کی ضرورت نہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو آخری کال سے مشغول رکھا گیا اور وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ کب تک جھوٹ بولتے رہیں گے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک میں معیشت بہتر ہو رہی ہے، بیرون ملک پاکستان کا وقار بڑھا ہے، اور بھاشا اور داسو ڈیم جیسے منصوبے چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت سے صوبے کو کچھ نہیں مل رہا تو وہ تنخواہیں بھی ادا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی قومی مسئلہ ہے۔آخر میں امیر مقام نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت چاہتی ہے تو آپریشن کیا جا سکتا ہے اور اگر فوج کی ضرورت محسوس ہو تو صوبائی حکومت مرکز کو درخواست دے سکتی ہے۔