جذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، نوکری رہے یا نہیں، مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، محسن نقوی

جذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، نوکری رہے یا نہیں، مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عہدہ رہے یا نہ رہے، وہ نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور صوبہ اسلام آباد کے قیام کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

لاہور میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ کے عنوان سے جاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے کوئی براہِ راست بجٹ نہیں ملتا، جبکہ سی ڈی اے اپنی زمینیں فروخت کرکے نظام چلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ، پشاور، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے مسائل کو مقامی سطح پر بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بااختیار میئر کا نظام ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی انہیں چاہتی ہے تو اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔محسن نقوی نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے بجائے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو انہیں قائم ہونا چاہیے، بصورت دیگر نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی رائے کی بنیاد پر ہوگا، اس معاملے میں اصل اہمیت عوام کی خواہش کی ہے۔

اپنے سابقہ ’ری سیٹ‘ سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ان کا اشارہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا بلکہ وہ 1979 سے جاری نظام میں اصلاح اور اسے ری سیٹ کرنے کی بات کر رہے تھے۔انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچویں جماعت کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا، جو تعلیمی نظام کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، تعلیمی اصلاحات کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ نے نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی ردعمل سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو فوری طور پر ہونے جا رہا ہو۔ ان کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف اسی صورت میں ہوگا جب عوام اس کی خواہش کریں گی۔