طلعت بٹ
جو شخص خود اپنے آپ پر حکومت نہیں کر سکتا سمجھ لیں کہ اس سے بڑا غلام کوئی نہیں (سقراط ) کے اس چھوٹے سے مکالے میں کتنی گہرائی ہے۔ در اصل مسئلہ غلامی یا حکمرانی کا نہیں ہے در پردہ بات ہے انسان کی خودی کی اور self respect کی انفرادی طور پر ہر کوئی تجزیہ کر سکتا ہے کہ خود پر حکمرانی کرنے والا شخص کتنا طاقتور اور مضبوط ہو سکتا ہے۔ انسان کے الفاظ اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ( سقراط ) کے سامنے ایک شخص خوبصورت لباس پہن کر آ کر کھڑا ہوا اس پر حضرت نے فرمایا کچھ بولو تاکہ تماری قابلیت کا اندازہ ہو سکے ، سو ثابت ہوا کہ پوشاک یا زیور انسان کی پہچان نہیں ہوتی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان جو ایسے معاشرے میں پیدا ہوتا ہے جہاں علم و سخن نا پید ہوں تو وہ شخص کیا کرے جس سے اس کی اندرونی پوشیدہ خوبیاں ظاہر ہو سکیں۔ آج کا دور ٹیکنالوجیکل فنون اور علم کی روشنیوں سے منور ہے۔ جب کسی ملک میں غلامی اور ڈکٹیٹر شپ کا دور دورہ ہو تو اس قوم پر ترقی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں جب تک اس ملک یا قوم میں کوئی انقلابی پیدا نہیں ہوتا قوم میٹھی نیند سوتی رہتی ہے۔ جب کسی قوم سے جینے کا حق چھین لیا جائے اور آزادی جیسے نعمت سے نا آشنائی ہو اور نفسیاتی طور پر فضول رسومات پر عقیدت مند قابض ہوں تو پھر اس دیس اور قوم پر برا وقت گھر کر جاتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ قومیں اپنا کردار ادا نہ کر سکیں اور کمزور اقوام عالم میں ذلیل و خواری کی زندگی گزار کر تباہ و برباد ہو گئیں۔ انفرادی طور پر کچھ لوگ قابل ضرور ہوتے ہیں مگر ان کو فراموش کر دیا جاتا ہے بلکہ اس قابل انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ یہاں تک میرا خیال جزوی طور پر اپنی قوم کیلئے ضروری پیغام تھا اب چلتے ھیں اپنے معاشرے کی طرف جس میں سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ جذبات پر کنٹرول نہیں اور تربیت کا فقدان ! مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم نااہل ہیں ایسا نہیں ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ بڑے قابل اور ہنر مند بھی ہیں اگر ان کو تھوڑا بہت سمجھایا جائے تو یہی لوگ اعلی ظرف اور پر اثر لگنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے بدنام کلچر جس میں ہم اپنے بچوں کو زبردستی دھکیلتے ہیں مدرسوں اور دینی درسگاہوں کا ھے جہاں دینی تعلیم کے نام پر گھنائونے اور شرمناک واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں ہمارے بچوں پر ان جنونی معلموں کا اثر اتنا گہرا ہے کہ ہمارے نوجوان جنون اور بدحواسی کا شکار ہو جاتے ہیں جو بچے ان معلموں سے دینی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں وہ غیر محفوظ سمجھے جاتے ھیں اور یہی بچے جب سکول اور کالج جاتے ہیں تو وہی غلیظ کلچر ان کے اندر سرایت کر چکا ہوتا ہے اور پھر نسل در نسل یہ غلاظت ان کی فطرت کے طور پر جانا جانے لگتا ہے۔ ان حالات میں ایک اسلامی ملک کیسے آگے بڑھ سکے گا ہر ادارے میں وہی مصنوعی دین دار بچے رشوت ستانی کرتے ہیں عدالتوں میں جج تک بکاؤ مال ہے۔ جہاں تک میرا تجزیہ ہے یہ سارا نظام کسی مضبوط گروہ یا طاقت کے زیر سایہ چلتا ہے۔ اس نظام کو نکیل ڈالنے کیلئے ہر گھر کے سربراہ کو اپنے بچوں کے تحفظ پر توجہ دینی ہو گی۔ مغربی دنیا کے حوالے سے بات کروں تو اپنا حال بہت عجیب و غریب لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشوت کو اپنا جائز و ناجائز مفاد حاصل کرنے کیلئے فرض سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ مغرب میں رشوت اور سفارش کا ذکر تک نہیں ملتا۔ دوسری طرف یہ ہمارا سارا نظام ھے ! جس میں عوام کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ، اسی طرح چلتا نظر آ رہا ہے۔ اس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے بہت جلد پاکستان میں انصاف کی فراہمی اور قانون کے احترام پر بات چیت ہو کیونکہ یہ نظام جو اس وقت چل رہا ہے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا فطرت کا
قانون ہے تبدیلی اور اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنا کر دوسری دنیا کی طرح حقیقی آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں اور دوسری ترقی یافتہ قوموں کی طرح ہر آنے والے کل کو آج سے بہتر بنانے کا اعادہ کریں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں کامیاب ھوں۔