انسانی سمگلنگ ایک سنگین المیہ اور تدارک کیلئے ضروری اقدامات

نورین شہزادی

انسانی سمگلنگ دنیا بھر، خصوصاً پاکستان میں ایک سنگین سماجی مسئلے کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ یہ غیر قانونی عمل اکثر لوگوں کو بہتر مستقبل کا جھانسہ دے کر خطرناک راستوں پر ڈال دیتا ہے، جو اکثر جانی نقصان اور شدید انسانی بحران کا باعث بنتا ہے۔ حال ہی میں، حکومت پاکستان نے انسانی سمگلنگ کے خلاف عملی اقدامات تیز کرتے ہوئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے غیر قانونی ترکِ وطن کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2021ء  سے 2023ء  کے دوران غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں حیران کن طور پر 280 فیصد اضافہ ہوا۔ نوجوانوں کو بیرون ملک جانے کا خواب دکھا کر ان سے بڑی رقم بٹور کر خطرناک راستوں پر روانہ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد المناک حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ انسانی سمگلروں کا بڑا ہدف نوجوان ہیں، اور ایسے نوجوان جو بے روز گار ہیں۔ ان کو یہ سمگلر ایسے ایسے سہانے خواب دکھاتے ہیں کہ وہ آسانی سے ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کو یورپ کے پْرکشش ماحول، یورپی لڑکیوں سے شادی اور پھر وہاں کی نیشنلیٹی کا خواب دکھاتے ہیں۔ نوجوان جلد ہی ان  کے جھانسے میں آکر ان کو اپنے والدین کی زندگی بھر کی جمع پونچی دیدیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ یورپ کی حسین وادیوں میں جانے کی بجائے موت کی ا?غوش میں جا سکتے ہیں، اور پیچھے بوڑھے ماں باپ کو ساری عمر کا دکھ دے جاتے ہیں۔ حکومتی اقدامات کے تحت انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا جا رہا ہے، تاہم بین الاقوامی نوعیت کے اس جرم کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور مؤثر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انسانی سمگلنگ کی عالمی معیشت کا حجم تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر ہے۔ خاص طور پر شمالی افریقہ سے یورپ جانے والا بحیرہ روم کا راستہ سب سے خطرناک تصور کیا جاتا ہے، جہاں ہزاروں افراد جان گنوا بیٹھتے ہیں۔  پاکستان کی حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حالیہ دنوں میں تین اہم بل سینیٹ میں پیش کیے ہیں، جن میں امیگریشن بل، انسانی ٹریفکنگ کی روک تھام کا بل اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خلاف ترمیمی بل شامل ہیں۔ ان قوانین میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، مثلاً غیر قانونی امیگریشن کی کوشش پر پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانہ، جب کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے لیے 14 سال تک کی قید اور لاکھوں روپے کا جرمانہ شامل ہے۔ تاہم، صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں متعدد انسانی سمگلرز کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کیے بغیر اس مسئلے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے اور ساتھ ہی انسانی سمگلنگ کے خطرات سے آگاہ کرنے کیلئے جامع مہمات چلائے۔ یہ مسئلہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، سماجی ذمہ داری اور سخت کارروائیوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔