طلعت بٹ
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں۔اس جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جنگ سے نا صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو جو نقصان پہنچا ھے اور پہنچے گا!اسکا اندازہ لگانا مشکل ھی نہیں بلکہ اندھیرے میں سوئی میں دھاگہ ڈالنے کے مترادف ھے۔حالیہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ کی وجہ سے عالمی برادری گمبھیر سورتحال کا شکار ھے !مگر اس گھناؤنی سورتحال کو پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ھے اور اس بیش قیمت نقصان کی تلافی کیسے ہو گی؟ چونکہ نام نہاد عالمی طاقتوں کا رحجان تو ابھی بم برسانے پر ھے جو اپنی طاقت دکھانے کیلئے پوری دنیا کے سکون کو داؤ پر لگائے بیٹھی ھے۔ایران، عمان، قطر، سعودی عرب، بحرین، لبنان وغیرہ وغیرہ کا حال ایسا خستہ ہو چکا ھے کہ اب وہاں کی گئی ترقی پھر سے پچاس سال پیچھے چلی گئی ہے اور ان علاقوں کے عوام کو اب صاف پانی بھی میسر نہیں رہا دیگر یہ کہ جو نقصان مزید پنہچنے والے ہیں اس کا تخمینہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔کیا اس قسم کی جنگوں میں انسانی آبادیوں کو نشانہ بنانا درست ہے؟کیا ان شہری علاقوں پر بارود اور آگ برسانا صرف عالمی طاقتوں کی بدمعاشی یا پسندیدہ کھیل ہے کہ جب چاہا جس پر چاہا بلا جواز حملہ کر دیا!یہ نا صرف کھلی دہشت گردی بلکہ انسانی حقوق کی پامالی بھی ھے۔سچ تو یہ ہے کہ ان کو کوئی نہیں پوچھنے والا نہیں۔کیونکہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ جس پا چاہیں آگ اور بارود کی بارش کر دیں۔جہاں تک انسانی ہمدردی کے اداروں کا تعلق ہے یہ انسانی ہمدردی کے ادارے ہیں یا لاشیں دفنانے والے ادارے!المیہ یہ ہے کہ ہر دو جانب آگ کا طوفان ہے اور شہری آبادیاں راکھ کا ڈھیر بنتی جا رہی ہیں۔بچوں کی ہلاکتیں اور ہسپتالوں پر گولہ بارود کی بارش کہاں کی بدمعاشی ہے۔یہ ہلاکتیں اب ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں میں ہو چکی ہے فقط ایک مہینے اور چند ایام میں سیکڑوں ہزاروں ملازمین فوجی اور سیکورٹی اداروں کے افراد بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کا استمعال انسانی زندگی پر کیا اثر چھوڑتا ھے یہ ہیرو شیما ناگاساکی کی صورت میں آج بھی جیتی جاگتی تصویریں ھیں۔قاتلوں کو کوئی نہیں پوچھتا کیا آج کا انسان اور فوجی اتنے سستے ہو چکے ھیں کہ جب چاہا اور جہاں چاہا مار دیا۔ایسا ترقی یافتہ دور آیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا نقشہ واضح نظر آنے لگ گیا ھے۔محسوس ہوتا ہے کہ یہ گولا بارود انسانی زندگیوں کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دے گا اور انسان پھر سے وہی پرانی جنگل کی زندگی اختیار کر لے گا۔کیونکہ کیمیائی ہتھیار کسی بھی جاندار کو نکلنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے آخر یہ انسان کہاں جایئں گے۔کیا یہ دنیا کی ترقی فقط جنگی طیاروں اور بارود کے استعمال اور اس بعد کے نقصان بھامپنے کیلئے ہوئی ھے؟ کیا یہ دنیا ہتھیار بنا کر فروخت کرنے والوں کی ھے؟کیا ترقی اسی طرح انسانیت کو فنا کرتی رھے گی؟کیا سلامتی کونسل کے ادارے اسی طرح جھلسی ہوئی لاشیں دیکھنے کیلئے بنائے گئے تھے؟اس جنگ کا خاتمہ ہونے سے پہلے کیا انسان زمین سے ختم ہو جایئں گے کیا ہم انسان ہوموسپائن یا نیڈیڈول(homosapien nededol )کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہو جایئں گے۔جیسے ہزاروں سال پرانے انسان جنگلوں میں اپنی زندگیاں گزار دیتے تھے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں ماڈرن انسان ہونے کی سزا دی جائے گی۔انسان نے یہ ترقی بڑی قربانیاں دے کر حاصل کی ہے اور اس مقام تک آ چکا ہے کہ ایک بٹن دبانے سے سینکڑوں میٹر زمین راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے۔اگر آج
ہم نے نیوکلیر بموں کا فیصلہ ترق نا کیا تو پوری دنیا بنجر ہو جائے گی۔اور یہ سفر جو انسان نے کروڑوں سال خرچ کر کے شروع کیا تھا اس کا اختتام خود اپنے ہی ہاتھوں سے چند لمحوں میں کرنے جا رہا ہے۔اب جبکہ ہم آسمانوں پر کمند ڈال چکے ہیں کیا اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں سے ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہوئے فنا ہو جایئں گے۔اگر ایٹمی ہتھیار استعمال نا روکا گیا تو زمین جل جائے گی انسان تو انسان جانور بھی تباہ و برباد ہو جائیں گے اور زمین پر سانس لینامشکل ہو جائے گا کیونکہ تابکاری اثرات مرتب ہوں گے اور پھر پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہو گا کیا انسان جانوروں کی طرح جنگلوں میں مارا مارا پھرے گا اور پتھروں کا زمانہ دوبارہ جنم لے گا کیا پھر یہی انسان نفرت سے پاک ہو جائے گا یا دوبارہ خون پینے والا بھیڑیا نما انسان بن جائے گا؟ میں امید کروں گا کہ انسان اپنی بقا کے لئے کسی بھی بنیاد پر انسانیت سے سمجھوتہ کر لے ورنہ اس خلقت آدم کا انجام بہت برا اور ہیبت ناک ہو جائے گا !