آکاش علی
ہر کسی نے بچپن میں بارہا مختلف لوگوں کی زبانوں سے یہ سنا بھی ہو گا کہ گونگا اْسے کہتے ہیں جو بول نہیں سکتا اندھا اْسے کہتے ہیں جو دیکھ نہیں سکتا اور بہرا اْسے کہتے ہیں جو سن نہیں سکتا لیکن موجودہ حالات میں پیدا ہونے والے محنت کشوں کے ساتھ سرمایہ داروں کی بیہودہ چال نے مجھے جھنجھوڑ کر میرے سامنے ایک سوال اٹھا دیا جس کا میں متلاشی بن کر سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ محنت کشوں کو وہ مقام آج تک کیوں حاصل نہیں ہوا جو محض سرمایہ داروں کو حاصل ہوتا ہے سو اب جہاں خاموشی کے ایسے مناظر نے مجھ میں اتفاقاً ایسے مخفی حقائق پہ تحقیق کرنے کا تجسس بیدار کر دیا کہ میں آگہی سے آگے پہنچ گیا البتہ بات یہ حقیقت بھی تھی کہ گونگا ، اندھا اور بہرا ان پہ جو ٹھپہ لگا دیا گیا ہے وہ سو فیصد درست ہی ہے اب سوچیں تو یہ وہ حقائق ہیں جو ناقابلِ تسلیم بھی نہیں لیکن ایک طرف یہ کتنا عجب منظر ہے اور کتنی بدتہذیبی ہے کہ جب زبان رکھنے والا بھی خاموش رہیں، آنکھوں کی بنائی ہوتے ہوئے بھی سچ کو اَن دیکھا کیا جائے اور سماعت کی استعداد رکھنے والا بھی انجان بن کر خود کو بہرا ہی ظاہر کریں تو ان کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔ میں ہمیشہ حقیقت کا متلاشی رہا ہوں جب میں نے یہ فرسودہ فلسفہ سنا تو پھر وقت اپنی رفتار کے ساتھ گزرتا چلا گیا اور میں اپنی تحقیق پہ اترتا ہی گیا شروعات میں یہ میری کم عقلی تھی کہ میرے ذہن میں بھی یہی تاثرات خَم ہو چکے تھے لیکن زندگی نے تو ابھی شعور کی راہ کا آغاز کیا تھا اور منزل کا تو نام و نشان بھی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا پھر بھی اپنی جدوجہد کو جاری و ساری رکھتے ہوئے
میں نے یہ محسوس کیا کہ زندگی میں سب سے زیادہ بدترین مرحلہ غربت ہے جو انسان کو ننگا کر دیتی ہے جو نہایت دل سوز ہے یہی انسان کی حرمت کا باعث بنا کرتی ہے البتہ زندگی کے بے بنیاد سفر طے کرنے کے بعد بھی ابھی تو بہت کچھ سیکھنا اور جاننا میری زندگی کا حصہ بننے کے لئے میرا منتظر تھا۔جوں جوں وقت گزرتا گیا زندگی نے بہت سے سبق سکھانے اور جب اپنی نظر سے دنیا داری کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو حقیقتیں میرے سامنے کھلتی گئیں۔ ایسے موقع بھی آئے کے تجربات نے مجھے حقائق سے آشنا کیا لیکن میں ہمیشہ سچ کا متلاشی رہا۔ ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ میرا مقصد صرف یہی بن گیا کہ سچ تک رسائی حاصل کرنا ہے وقت گزرتا گیا کیونکہ اسے تو رکنے کے لئے وقف ہی نہی کیا گیا اور میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد کی اوڑھ بڑھتا گیا۔ لمحہ بہ لمحہ زندگی کے تمام صفحات میرے سامنے پلٹ رہے تھے اور میں آگے کی طرف بڑھ رہا تھا، ساتھ ساتھ میرا فہم و ادراک بھی پھیلتا جا رہا تھا اس بات سے مجھے خوشی بھی میسر تھی کہ میں زندگی بے مقصد نہیں جی رہا البتہ مجھے لوگوں سے سنے ہوئے بچپن کے تمام جملے ، قصے ، کہانیوں کی حقائق کو جاننے کا تجسس بڑھتا اور بے چین بھی کرتا چلا جا رہا تھا کبھی الجھ جاتا تو کبھی حیرت کی زد می تنہا خود کے ضمیر سے لڑتا مگر یہ معاملہ بھی میرے لئے ایک نئے سفر کے مسافر بننے کا سبب بنتا رہا۔ وقت کی رفتار سے آخر میں نے اخذ کیا کہ محنت کشوں کی محنت ہی ہے جو پوری دنیا کے نظام کو آگے بڑھا رہی ہے باوجود اس کے محنت کش آج بھی اپنی زندگیاں دربدر گزار رہیں ہیں کیونکہ ان کو ان کے آئینی حقوق کی جانکاری سے محروم رکھا گیا ہے تاکہ یہ طبقہ ہمیشہ سرمایہ داروں ،
جاگیرداروں، وڈیروں اور لٹیروں کی چال سے آشنا نہ ہو سکے۔ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر ایک فرد کا حق ہے مگر افسوس جو تنظیمیں ان کے حقوق کے حصول کے لئے بنائی گئی ہیں ان کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ ان مسائل حل کرنے کہ لئے کوئی لائحہ عمل سامنے لا سکیں۔ ان تنظیموں نے تو سیمنار رکھنے کا ٹھیکہ لے رکھا کبھی کسی کی سالگرہ کی تقریب کا تو کبھی کسی کی برسی کا۔ ہمیں ملک کو قوم بنانا چاہیے اور قومیں اتحاد اور برابری کی بنیاد پہ بنا کرتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس پہ کسی کو غوروفکر کرنے کا وقت نہیں اور نہ ہی ابھی تک کوئی حقیقی جدوجہد منظر عام پہ ہے لیکن کب تک ؟ آخر ایک دن محنت کش ہم آواز ہوں گے دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے جہاں محنت کش ہم آواز ہوئے انہوں نے اپنے حقوق حاصل کئے اور اس لئے ہم آواز ہونا ضروری ہے ورنہ محنت کش طبقہ اگر بیدار نہ ہوا تو اس طبقہ کو ہمیشہ اپنے حقوق سے محروم ہی رہنا پڑے گا اور ترقی کبھی پروان چڑھنے کے قابل نہیں پو سکے گی لہذا ترقی کے لئے تہذیب کا ہونا ضروری ہے اور تہذیب بنا تعلیم ، آگہی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر انسان یہ جان جائے کہ اس کا مثبت تخیل، خدا کی طرف سے اسے عط ہوا ہے تو یاد رکھیں اس کی منفی سوچ اسے کبھی بھی ابلیس چیلوں کی پیروی کرنے نہیں دے گی مگر یہ بھی انسانی فطرت ہے کہ وہ خود کے وجود کو خود کا مالک سمجھتا ہے جبکہ یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے اسی نادانی کی وجہ وہ مرتے دم تک گمراہ رہ کر اپنی زندگی گزارتا ہے "آئیں مل کر انسان کو انسان تسلیم کریں اور انسانی تقسیم ہوئی طبقاتی سوچ کو رد کر کے انسانیت کو اول ترجیح دیں تاکہ ہر کوئی محرومیت کا شکار ہونے سے بچ سکے اور خوشحالی کی زندگی بسر کر سکے۔