رمشا بتول
1. قانونی تحفظ: عورت کو وراثت، تعلیم، نوکری، شادی ہر معاملے میں برابر کا قانونی حق حاصل ہے اور قانون پر عمل بھی ہوتا ہے۔
2. معاشی آزادی: عورت خود کماتی ہے، اپنا فیصلہ خود کرتی ہے۔ اسے "اجازت" کی ضرورت نہیں پڑتی۔
3. سماجی رویہ: عورت کو ڈاکٹر، انجینئر، جج، CEO ہر کردار میں قبول کیا جاتا ہے۔ اسے کمزور یا بوجھ نہیں سمجھا جاتا۔
4. نمائندگی: پارلیمنٹ، عدالت، پولیس، فوج - ہر شعبے میں عورت موجود ہے۔
پاکستان میں مسائل:
آج بھی بہت سی جگہوں پر عورت کو وہی "جہالت کے زمانے" والا سلوک ملتا ہے جس کا آپ نے ذکر کیا: وراثت سے محرومی - غیر قانونی طور پر حصہ نہیں دیا جاتا‘تعلیم و روزگار میں رکاوٹ - "لڑکیوں کو پڑھانے کا کیا فائدہ" والا سوچ‘فیصلے کا حق نہیں - شادی، نوکری، کاروبار میں اس کی مرضی شامل نہیں کی جاتی‘ تشدد و ہراسانی - گھر سے دفتر تک عدم تحفظ‘ نمائندگی کی کمی - فیصلہ ساز اداروں میں عورت نہ ہونے کے برابر ہے
حل کیا ہے؟ ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات
پاکستان میں عورت کو بااختیار بنانے کے لیے یہ قدم ضروری ہیں:
*مسئلہ* *ٹھوس حل*
*1. قانونی تحفظ* وراثت، گھریلو تشدد، ہراسانی، کم عمری کی شادی کے قوانین پر *100% عملدرآمد*۔ تھانوں میں خواتین ڈیسک اور فاسٹ ٹریک عدالتیں
*2. معاشی خودمختاری* عورتوں کے لیے بلا سود قرضے، کاروبار میں مدد، ہر ادارے میں *10% کوٹہ* صرف خواتین کے لیے۔ "مالک بنانے" کے لیے ٹریننگ
*3. تعلیم* لڑکیوں کے لیے 16 سال تک مفت تعلیم، دیہات میں گرلز سکول، یونیورسٹی میں ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولت
*4. نمائندگی* اسمبلی، سینیٹ، بلدیات میں *33% نشستیں* خواتین کے لیے مخصوص۔ پولیس، عدلیہ میں بھرتی بڑھائی جائے
*5. سماجی شعور* نصاب میں عورتوں کے حقوق شامل کیے جائیں۔ میڈیا پر "عورت صرف گھر کی ہے" والا بیانیہ ختم کیا جائے
آخری بات
کوئی ملک اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کی 50% آبادی پیچھے ہو۔ عورت کو اگر زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے برابر موقع، عزت اور تحفظ دیا جائے تو وہ صرف "اہم کردار" ہی نہیں، رہنمائی کا کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔ حکومت، عدلیہ، اور سب سے بڑھ کر ہم سب کو بحیثیت معاشرہ اس پر کام کرنا ہوگا۔ کیونکہ عورت کو عزت دینا صرف عورت کا نہیں، پورے پاکستان کی ترقی کا سوال ہے۔جس قوم نے اپنی بیٹیوں کو پڑھا دیا، اس نے اپنی تقدیر خود لکھ لی"