عتیق چوہدری
پاکستان شدید سیاسی بے یقینی، انتظامی تنزلی اور گہرے معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔آئی ایم ایف نے گورننس اور کرپشن رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے۔ یہی وہ سنگین المیہ ہے جس کے باعث ملک کی حقیقی، پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی بینک نے بھی پاکستان کے موجودہ معاشی اور انتظامی ماڈل کو ناکام قراردیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ سوال ہر ذی شعور شہری کے ذہن میں شدت سے ابھر رہا ہے کہ عوام کو سستی، آسان اور بروقت سہولیات کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف کے لیے کن انقلابی اقدامات اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے؟عدلیہ سے متعلق 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد، اب ملکی انتظامی اور حکمرانی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کی آوازیں پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو رہی ہیں۔ اس بحث نے اس وقت باقاعدہ ایک قومی ڈیبیٹ کی شکل اختیار کی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں ملکی گورننس کی بہتری کے لیے 'سسٹم ری سیٹ' اور نئے انتظامی یونٹس کی واضح تجویز پیش کی۔ اس کے فوراً بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ایک پریس بریفنگ میں اس کی تائید کرتے ہوئے یہ اہم اعداد و شمار سامنے رکھے کہ 1971ء میں پاکستان کی آبادی 7 کروڑ تھی اور صوبے 4 تھے؛ جبکہ آج آبادی بڑھ کر 25 کروڑ ہو چکی ہے مگر انتظامی صوبے وہی 4 ہیں۔ اس سنگین مسئلے کا انتظامی نقطہ نظر سے جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ موجودہ تناظر میں اس تجویز کے سامنے آتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کا ردِعمل روایتی تقسیم کا عکاس نظر آتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں کسی بھی نئے صوبے کے قیام کو سادہ الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اپنایا ہے کہ سندھ کے عوام کسی صورت تقسیم قبول نہیں کریں گے۔ دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سندھ میں تجاویز کے مطابق کراچی کو وفاق کے سپرد اور گوادر کی طرح آزاد انتظامی حیثیت دی جائے تو حیدرآباد اور سکھر کے بعد باقی دیہی سندھ کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے جہاں پیپلز پارٹی کا اصل ووٹ بینک موجود ہے۔پنجاب کو دیکھا جائے تو وہاں نئے صوبوں کی تشکیل پر کوئی شدید سیاسی یا عوامی اختلاف پایا نہیں جاتا۔ پنجاب اسمبلی ماضی میں بھی جنوبی پنجاب صوبے کی باقاعدہ منظوری دے چکی ہے، اور شمال و وسطی پنجاب میں نئے یونٹس پر بھی زیادہ اعتراضات موجود نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں گوادر کو وفاقی انتظام میں دینے یا صوبائی اختیارات کے حوالے سے پرانے خدشات اور سوئی گیس رائلٹی جیسے حساس مسائل ماضی کی طرح آج بھی موجود ہیں۔نئے صوبوں کی تشکیل پر اعتراض اٹھانے والے عموماً دو اہم سوالات سامنے لاتے ہیں: اول یہ کہ نئے بننے والے صوبے اپنے انتظامی اور ترقیاتی اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ اور دوم یہ کہ زیادہ صوبے بنانے سے مرکز یعنی وفاق کا غلبہ بڑھ جائے گا جس سے 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والی صوبائی خودمختاری متاثر ہوگی۔ ان سوالات کا جواب نہایت منطقی اور سادہ ہے۔ دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے کہ جب نئے انتظامی صوبے تشکیل پاتے ہیں تو ان کے اندر مقامی سطح پر محصولات اور ٹیکس جمع کرنے کا نیا اور مؤثر نظام خود بخود وجود میں آتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ ان کی آمدنی اور خودانحصار میں بالترتیب
اضافہ ہوتا ہے۔اگر عالمی مثالوں کو دیکھا جائے تو امریکہ میں 50 سے زائد ریاستیں اور ہمارے ہمسائے بھارت میں 28 ریاستیں اور 8 یونین ٹیریٹریز (مجموعی طور پر 30 سے زائد انتظامی یونٹس) موجود ہیں، اور وہ سب اپنے آئینی دائرے میں مکمل خودمختار ہیں۔ وہاں وفاق اور ریاستوں کے اختیارات کی سرحدیں واضح اور متعین ہیں۔ محض مفروضوں اور خدشات پر تکیہ کر کے خاموش بیٹھ جانا یا اصلاحات سے خوفزدہ ہونا مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم نے اختیارات اور مالیاتی وسائل کو وفاق سے صوبائی دارالحکومتوں (یعنی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی کابینہ) تک تو منتقل کر دیا، لیکن صوبوں نے آگے اضلاع، شہروں اور عام عوام تک ان اختیارات اور این ایف سیایوارڈ کے ثمرات نہیں پہنچنے دیے۔ اختیارات کا مرکز محض صوبائی دارالحکومت بن کر رہ گیا، جس کی وجہ سے نچلی سطح پر عوام بنیادی سہولیات سے مسلسل محروم رہے۔ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال آئین کے آرٹیکل 239 میں ایسی ترمیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت کی شرط نئے صوبوں اور انتظامی بہتری کی راہ میں سیاسی رکاوٹ نہ بن سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی جنرل ضیاء الحق کے دور میں 'آفاق انصاری رپورٹ' کے تحت ملک میں 13 انتظامی صوبے بنانے کی تجاویز سامنے آئی تھیں، مگر بدقسمتی سے عملی قدم کبھی نہ اٹھایا جا سکا۔اس سارے معاملے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گورننس کے بحران کا حل صوبوں کی تقسیم کی صورت میں سامنے لانا خود ہماری سیاسی جماعتوں کی اپنی فکری اپروچ، تحقیق یا اجتماعی مشاورت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سوچ مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ابھاری گئی ہے۔ جمہوریت صرف پانچ سال بعد الیکشن کرانے کا نام نہیں ہے؛ جمہوریت نام ہے اجتماعی سوچ، مشاورت، تدبر اور انسٹی ٹیوشنل فریم ورک کا۔ دنیا بھر میں بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے ریسرچ ونگز اور تھنک ٹینکس ہوتے ہیں جو تعلیم، صحت، معیشت اور انتظامی اصلاحات پر رات دن تحقیق کرتے ہیں اور اقتدار میں آنے سے پہلے منشور اور پالیسی ڈرافٹ تیار رکھتے ہیں۔پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر یہ تحقیقی اور مشاورتی نظام تقریباً ناپید ہے۔ اہم ترین فیصلے چند خاندانوں یا محدود اقتدار پرست حلقوں کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف صوبوں کے جغرافیے بدلنے کا نہیں، بلکہ اختیارات کی واقعی نچلی سطح تک منتقلی، مالیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم، انتظامی صلاحیت کارکی بہتری اور ایک بااختیار اور پائیدار بلدیاتی نظام کے قیام کا ہے۔ اگر بنیادی نظام کو بہتر کیے بغیر اور بلدیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنائے بغیر صرف نئے صوبے بنا دیے گئے، تو مسائل حل ہونے کے بجائے ایک نیا انتظامی بوجھ اور لسانی تنازعات جنم لیں گے۔اگر پاکستان کو معاشی بدحالی، انتظامی زوال اور عوامی بے چینی سے نکالنا ہے تو محض زبانی جمع خرچ یا وقتی سیاسی سمجھوتوں سے کام نہیں چلے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی و عسکری ق?ادت، عدلیہ اور سول سوسائٹی ایک میز پر بیٹھ کر 'گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ' کے ذریعے ایک بااختیار 'قومی انتظامی کمیشن' تشکیل دیں۔ یہ کمیشن نئے انتظامی یونٹس، سینیٹ میں متناسب نمائندگی اور صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کو آئینی تحفظ دے کر فنڈز و اختیارات کی بلدیاتی سطح تک منتقلی کا واضح فارمولا طے کرے۔ محض نام بدلنے یا کاغذی ترمیمات سے تقدیر نہیں بدلتی،اربابِ اختیار کو شخصی و لسانی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک شفاف، مضبوط اور نچلی سطح تک بااختیار 'سسٹم ری سیٹ' کرنا ہوگا، کیونکہ اسی میں پاکستان کی پائیدار ترقی اور عوام کی فلاح کا راز مضمر ہے۔