گرفتار بیگناہ علما وکارکنوں کوفوری رہا کیا جائے :تنظیمات اہلسنت

 وفاقی حکومت کوچاہیے اسلامی قوانین کے نفاذمیں رکاوٹوں کودورکرے
درود پڑھنے پر مقدمات کرنیوالے افسروں کیخلاف کارروائی کی جائے:اعلامیہ
لاہور(خصوصی رپورٹ)تنظیمات اہلسنت نے شرعی اعلامیہ میں پاکستان میں ہونیوالے خودکش حملوں کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ملک میں خودکش حملے حرام ہیں،البتہ وفاقی حکومت کوچاہیے اسلامی قوانین کے نفاذمیں رکاوٹوں کودورکرے،طالبان کابھارت اوراسرائیل سے گٹھ جوڑپاکستان دشمنی اوراسلام مخالف عمل ہے،اس کی شدیدمذمت کرتے ہیں،گرفتار اہلسنت کے بیگناہ علما وکارکنوں کوفوری رہا کیا جائے۔تنظیمات اہلسنت سے وابستہ 500 سے زائد مفتیان کرام نے پیرزادہ محمدامین قادری کی زیرصدارت طویل مشاورتی اجلاس کے بعدجاری شرعی اعلامیہ میں مزید کہا ہے کہ لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کاشواہدکے باوجودتوہین رسالت،توہین قرآن اورتوہین مذہب کے(6)ملزموں کوبری کرنااوراسلام آباد ہائیکورٹ کاایسے(60)ملز موں کی اکٹھے ضمانت لیناتشویشناک ہے۔آئی جی پنجاب درودوسلام پڑھنے پرگوجرہ اورگوجرانوالہ میں ایف آئی آر درج کرنے میں ملوث پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کریں۔سابق وفاقی وزیرسید حامدسعیدکاظمی،سابق وفاقی وزیرپیرامین الحسنات شاہ، سابق ایم این اے وصدرملی یکجہتی کونسل ڈاکٹرابوالخیر محمد زبیر ،سابق ایم این اے میاں جلیل احمدشرقپوری،سابق صوبائی وزیرپیرزادہ نبی امین،سابق ایم پی اے سیدمحفوظ مشہدی،سابق ایم پی ایمولاناغیاث الدین،قائم مقام چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حسن رضا،چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینئرثروت اعجازقادری،صدرجمعیت علما پاکستان(نیازی)پیرسیدمعصوم حسین نقوی کی خصوصی ہدایت پر طویل مشاورتی اجلاس کے بعد شرعی اعلامیہ جاری کیا ۔