فرقہ وارانہ بیانیہ روکنے کیلئے علما ء کردار ادا کریں‘ اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے‘طالبان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکیں:سپہ سالار

 پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا فیلڈ مارشل
  مذہبی جذبات کوملک میں تشدد بھڑکانے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے‘ملک دشمن عناصر اور ان کے ٹھکانوں کا جہاں کہیں بھی وجود ہوگا، انہیں  مٹا دیا جائے گا:علماء سے ملاقات میں گفتگو
پاک فوج کے شانہ بشانہ  کھڑے ہیں:مولانا زاہد عباس‘ ہر گائوں سے 20 افراد محاذ پر افواجِ پاکستان سے مل کر لڑیں گے:مولاناالطاف حسین‘پاکستان کی سالمیت سب سے مقدم ہے:علامہ عارف واحدی
راولپنڈی (آئی این پی) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے  پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، مذہبی جذبات کا ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے‘ ملک میں اتحاد، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ میں علما ء اپنا کردار ادا کریں۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہلِ تشیع علما سے ملاقات کی جہاں قومی سلامتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے، غلط معلومات اور فرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار ادا کریں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، مذہبی جذبات کو تشدد کیلئے بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی دوسرے ملک میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوئے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علمائے کرام نے مذہب کے نام پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی، علمائے کرام نے ملک میں امن و استحکام کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ علما و مشائخ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کے اختتام پر قومی یکجہتی اور اتحاد کے حوالے سے خصوصی پیغامات بھی جاری کئے، علما نے مذہب کے نام پر تشدد کی شدید مذمت کی اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ علما و مشائخ نے دفاع وطن کیلئے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے پاک افواج کے کردار کو سراہا۔ مولانا زاہد عباس کاظمی کا کہنا تھا کہ وحدت علمائیاسلام کے چیئرمین کی حیثیت سے ہم اپنے ادارے پاکستان آرمی کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر کھڑے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف افواج پاکستان کی نہیں بلکہ ہماری اور اہل وطن کی جنگ ہے۔۔علامہ شبیر حسن میثمی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اس کیلئے ہم نے قربانیاں دی ہیں اور دیتے رہیں گے، ہم ہر قسم کی داخلی و خارجی سازشوں کے خلاف ثابت قدمی سے ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔مولانا الطاف حسین نے کہا کہ افغانستان کی بلااشتعال جارحیت کا ہماری فوج نے بھرپور اور موثر جواب دیا، ہم پاکستانی ہیں، ہماری پہچان صرف اور صرف پاکستان ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے، ہم نے اپنے مرکز میں فیصلہ کیا ہے کہ ہر گائوں سے 20 افراد محاذ پر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔علامہ عارف واحدی نے کہا ہے کہ پاکستان عالم اسلام کا ایک فخر ہے اور اللہ کی نعمت ہے جو ہمیں 27 رمضان کو حاصل ہوا، معرکہ حق میں افواج پاکستان نے بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا، پوری قوم افغانستان کی بلااشتعال جارحیت پر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان اور پاکستان کی سالمیت سب سے مقدم ہے۔علامہ مرزا علی نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی کا حصہ ہرگز نہ بنیں اور ملکی استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔علامہ ناظر عباس نقوی نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔علامہ توقیر عباس نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کی سالمیت کیلئے ہم افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں۔علامہ محمد حسین نجفی نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام محفوظ رہیں تو پاکستان کو کبھی کمزور نہ ہونے دینا۔مولانا بشارت امامی نے کہا کہ ہم دفاع وطن کیلئے لازوال قربانیاں دینے والے شہدااوران کے لواحقین کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔