انتشار پھیلا کر تیزی سے مستحکم ہوتی معیشت کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘اس بات کو یقینی بنایا جائے کارروائیوں کے دوران کوئی بیگناہ شہری گرفتار نہ ہو:وزیراعظم

احتجاج کرنیوالوں کیخلاف کارروائیاں تیز کی جائیں شہبازشریف

انتشار اور فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی کا عمل مؤثر بنایا جائے ‘ ٹھوس ثبوت حاصل کئے جائیں‘ فساد پھیلانے والوں کے خلاف قائم کی گئی ٹاسک فورس کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے جائیں، وفاقی پراسیکیوشن سروس کو وزارت قانون کے تحت لایا جائے
شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس مقصد کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے‘وطن واپسی کے خواہاں پاکستانیوں کے جلد محفوظ انخلاء کیلئے اقدامات کئے جائیں:اجلاسوں میں ہدایات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا  انتشار پھیلا کر تیزی سے مستحکم ہوتی معیشت کو سبوتاں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ ، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں۔شہباز شریف نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کے دوران کوئی بے گناہ اور معصوم شہری گرفتار نہ ہو، وزیراعظم نے انتشار اور فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی کا عمل مؤثر بنانے اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ فساد پھیلانے والوں کے خلاف قائم کی گئی ٹاسک فورس کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے جائیں، انہوں نے وفاقی پراسیکیوشن سروس کو وزارت قانون کے تحت لانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے اسلام آباد جیل کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے اور اس حوالے سے فنڈز فوری جاری کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پر اجلاس کو اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ اسلام آباد سیف سٹی کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، اسلام آباد جیل کی عمارت اگلے سال مارچ تک مکمل کر لی جائے گی۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت شام کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانیوں کے انخلاء کے حوالے سے اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے شام سے وطن واپسی کے خواہاں پاکستانیوں کے بذریعہ ہمسایہ ممالک جلد از جلد محفوظ انخلاء کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلاء کیلئے اقدامات  کئے جائیں، شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس مقصد کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں۔وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کو معلوماتی ڈیسک اور پاکستانیوں سے رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک دفتر خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور شام اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہیں۔