سی پیک اعلی معیار کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے: ڑائو شیرین

 بدلتی عالمی صورتحال میں چین پاکستان شراکت داری استحکام کا اہم ستون ہے
 معدنیات، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کو نئی جہت ملے گی
لاہور( خصوصی رپورٹر)چینی قونصل جنرل ژائو شیرین نے کہا ہے کہ بدلتی عالمی صورتحال میں چین پاکستان شراکت داری استحکام کا اہم ستون ہے اور دونوں ممالک عالمی ترقی اور علاقائی امن میں مشترکہ کردار ادا کر رہے ہیں،سی پیک اب اعلی معیار کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں صنعتی، زرعی، معدنیات، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کو نئی جہت ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سر زمین فورم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع ''پاکستان کے خارجہ تعلقات ، چین اور امریکہ '' تھا۔مذاکرے سے خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی ،سابق مشیر قومی سلامتی جنرل (ر)ناصر جنجوعہ، سینئر صحافی صفدر علی خاں اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔چینی قونصل جنرل ڑائو شیرین نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی آہنی، منفرد اور ناقابل تنسیخ ہے،دونوں ممالک کے درمیان 74 سالہ سفارتی تعلقات اور مشترکہ تہذیبی ورثہ باہمی اعتماد کی مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطحی رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جن میں وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین اور 2029 تک 63 شعبوں میں جامع تعاون کے ایکشن پلان پر دستخط شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں سی پیک کے تحت 25.93 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جس سے 2 لاکھ 61 ہزار روزگار پیدا ہوئے، 510 کلومیٹر ایکسپریس ویز تعمیر ہوئیں، 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل ہوئی جبکہ 886 کلومیٹر ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو وسعت دی گئی۔چینی قونصل جنرل ڑائو شیرین نے کہا کہ چین کی 15ویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بندی اور پاکستان کا اڑان پاکستان وڑن مستقبل میں تعاون کے وسیع مواقع فراہم کریں گے جس سے نوجوانوں کے لیے ہنر مند روزگار بھی پیدا ہوگا۔انہوں نے پاکستان کی ترقی، سرمایہ کاری اور خوشحالی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔خارجہ امور کے ماہر محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات کئی  دہائیوں پر محیط ہیں جن میں تعاون، پابندیوں اور پالیسی تبدیلیوں کے نشیب و فراز شامل رہے ہیں