پاکستان کو اس وقت ہنگامہ آرائی کی نہیں بلکہ معیشت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے:سی پیک پر پیشرفت کیلئے جائزہ اجلاس سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے سی پیک کے 2025ء تا 2029ء کے عملی منصوبے پر عمل درآمد کے ایک سال کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی اجلاس کی صدارت کی۔۔اجلاس کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مشکل حالات میں ہمیشہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید توانائی بحران کے دوران چین نے پاکستان کو اہم سرمایہ کاری فراہم کی۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8000 میگاواٹ کا اضافہ ہوا، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔ انہوں نے تھر کے کوئلے کے ذخائر کی ترقی اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کو سی پیک کے پہلے مرحلے کی اہم کامیابیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے میں اسی بنیاد پر کاروباری تعاون، صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری، معدنیات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔ سبز معیشت کی راہداری کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پانی و غذائی تحفظ اور زرعی جدیدکاری پر توجہ دی جائے گی۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کی معاشی صلاحیت سے بھرپور استفادے کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پاکستان کی معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہے