بلوچستان مارچ کے مطالبات پر حکومت نے عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے: لیاقت بلوچ

بلوچستان مارچ کے مطالبات پر حکومت نے عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے: لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان مارچ کے تمام مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے اور وزیرِاعظم سطح پر باقاعدہ کمیٹی کے قیام پر پیش رفت کی جا رہی ہے۔

مذاکرات کی تفصیلات
منصورہ میں حق دو بلوچستان تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا:حکومت پنجاب کے وزرا کے ساتھ لاہور میں مذاکرات ہوئے۔وفاقی حکومت نے باضابطہ کمیٹی نوٹیفائی کر دی ہے۔مذاکرات عوامی مفاد میں ہوئے، کسی کے اشارے پر نہیں۔حکومت نے کوئی مطالبہ مسترد نہیں کیا۔
شہری مسائل پر بات چیت
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، لاہور ہائیکورٹ بار اور دیگر طبقات نے مثبت کردار ادا کیا۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ:چیک پوسٹوں پر عوام کی تضحیک روکی جائے۔بلوچستان میں ماہی گیری اور تجارت کے مسائل حل کیے جائیں۔
مولانا ہدایت الرحمن کا مؤقف
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا:ہمارا مقصد کسی سے تصادم نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت پر عمل ہے۔بلوچستان میں چیک پوسٹوں، بارڈر بندش، معدنیات میں مقامی شمولیت اور پینے کے پانی جیسے مسائل پر بات ہوئی۔اگر حکومت نے 6 ماہ میں وعدے پورے نہ کیے تو دوبارہ کوئٹہ سے اسلام آباد مارچ ہوگا۔
آئینی و جمہوری جدوجہد پر زور
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ اور پنجابی عوام کو لڑانے والے ایک ہی ہاتھ ہیں، اور پاکستان کی بقا صرف آئین، جمہوریت اور پرامن مزاحمت میں ہے، نہ کہ طاقت اور جبر میں۔