مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی، بیرسٹر گوہر

مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، بیرسٹر گوہر، نے اسلام آباد میں اپوزیشن گرینڈ الائنس کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

 انہوں نے انکشاف کیا کہ ترمیم کی منظوری کے آخری دن معلوم ہوا کہ کسی کے پاس اس کا ڈرافٹ موجود نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی، تاہم کچھ مجبوریوں کا ذکر بھی کیا۔ بیرسٹر گوہر نے اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ اور سیاسی جماعتوں کی کمزوری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاسی قوتیں کمزور ہیں، اسی لیے اسٹیبلشمنٹ حاوی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔کانفرنس کے انعقاد میں درپیش رکاوٹوں پر بات کرتے ہوئے، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نشاندہی کی کہ کرکٹ میچ کے لیے پورا ملک بند کیا جاتا ہے، لیکن آئین کے معاملے پر ایک بند کمرے میں کانفرنس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت آئین کے نام پر کانفرنس سے خوفزدہ ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پاور شیئرنگ پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ عوامی طاقت پر اعتماد کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کو کنونشنز منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے بھی پی ٹی آئی کے حق میں آواز نہیں اٹھائی، سوائے جماعت اسلامی کے، جس نے کراچی میں پی ٹی آئی کی سیٹ واپس کی۔26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس ترمیم پر کوئی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے مولانا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے احسان مند ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں سب کچھ بھول کر مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔کانفرنس کے دوران، اپوزیشن رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔