ایرانی حکام کو اسلامی جمہوریہ کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جنگ کی ’فتح‘ کا انتظار

ایرانی حکام کو اسلامی جمہوریہ کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جنگ کی ’فتح‘ کا انتظار

ایران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملوں کے باوجود ملک میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کی سالگرہ پر حکومت کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔

 تہران میں ریلیوں میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی۔یہ تقریبات 1979ء کے ریفرنڈم کی یاد میں منائی گئیں جس میں سرکاری اعلان کے مطابق 98.2 فیصد ووٹوں سے اسلامی جمہوریہ نظام کی منظوری دی گئی تھی۔تقریبات کے چند گھنٹوں بعد امریکا نے تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کے مقام پر فضائی حملہ کیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے علاقے میں تباہی اور دھوئیں کی تصاویر نشر کیں، اور پاسداران انقلاب نے علاقے کی حفاظت کی۔بدھ کے روز تہران میں 150 میٹر بلند اور 300 کلو وزنی قومی پرچم نصب کیا گیا، اور مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات ہوئے۔ انقلابِ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی نے عوام سے کہا کہ جنگ ختم ہونے تک سڑکوں پر موجود رہنا مذہبی ذمہ داری ہے۔مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے، مذہبی ترانے پیش کیے، اور پاسدارانِ انقلاب نے گشت بڑھا دیا۔ عراق سے وابستہ رضاکار گروہ بھی تہران میں امدادی کیمپ قائم کرنے میں مصروف تھے۔

ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا زمینی کارروائی کرے گا تو بھاری جانی نقصان ہوگا۔ امریکا اور اسرائیل نے حالیہ حملوں میں اسٹیل فیکٹریاں، جوہری تنصیبات، یونیورسٹی اور فوجی مراکز بھی نشانہ بنائے، جس سے معیشت اور شہری زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ملک میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش جاری ہے، شہری مہنگے وی پی این خریدنے اور آن لائن دھوکا دہی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے غیر قانونی سیٹلائٹ انٹرنیٹ استعمال اور حملوں کی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائیوں کا اعلان کیا۔شہری خود ساختہ وارننگ سسٹم قائم کر کے فضائی حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جنگی دباؤ، اطلاعاتی پابندیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود حکومت کے حامی مظاہرے جاری ہیں۔