اجمان: متحدہ عرب امارات کی ریاست اجمان میں تقریباً ایک ہفتے سے جاری مسلسل بارشوں کے بعد شدید شہری سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث النعیمیہ 1، 2 اور 3 کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سڑکیں پانی میں ڈوب چکی ہیں، گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق النعیمیہ 2 کی متعدد گلیاں پانی سے بھر کر جھیل کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک جزوی طور پر ڈوبی رہتی ہیں۔ بارش کے پانی کے مسلسل جمع ہونے سے کئی علاقے ناقابلِ رسائی ہو چکے ہیں، جس کے باعث مقامی افراد میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔
ہنگامی خدمات پر تنقید
متاثرہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا ہنگامی ہیلپ لائنز، خصوصاً 999، پر رابطہ کیا مگر انہیں عملی طور پر کوئی فوری امداد نہیں مل سکی۔ مقامی افراد کے مطابق حکام کی جانب سے فون پر یقین دہانیاں تو کروائی جاتی ہیں کہ مدد جلد پہنچ جائے گی، لیکن زمینی سطح پر کوئی واضح کارروائی نظر نہیں آ رہی۔اس مبینہ تاخیر کے باعث مقامی ہنگامی انتظامی نظام پر تنقید بڑھ رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پڑوسی ریاستوں دبئی اور ابوظہبی میں امدادی سرگرمیاں نسبتاً تیزی اور مؤثر انداز میں جاری ہیں۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی گھروں میں خوراک اور محفوظ پناہ جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں رہیں۔ بعض افراد کے مطابق وہ کئی دنوں سے کسی سرکاری امداد کے منتظر ہیں، جس سے آفات سے نمٹنے کے نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امارات میں امدادی سرگرمیوں کا فرق
اجمان کی صورتحال دبئی اور ابوظہبی سے مختلف دکھائی دیتی ہے، جہاں سرکاری ادارے سیلابی پانی نکالنے، پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرتے نظر آئے ہیں۔اس فرق نے اجمان کے رہائشیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی امدادی سرگرمیاں کیوں نہیں پہنچ سکیں۔
رہائشیوں کو درپیش بڑھتی مشکلات
النعیمیہ کے کئی خاندانوں کے لیے سیلاب ایک فوری انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گھروں میں پانی داخل ہونے اور سڑکوں کے ناقابلِ استعمال ہونے کے باعث خوراک اور ضروری اشیاء تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔بعض افراد کے مطابق ان کے پاس متبادل رہائش کا کوئی بندوبست نہیں، جس کے باعث وہ غیر محفوظ حالات میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ٹھہرے ہوئے سیلابی پانی سے صحت کے خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں، جن میں آبی امراض اور صفائی کے مسائل شامل ہیں۔مقامی کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ کئی دکانیں سیلاب کے باعث بند کرنا پڑی ہیں، جس سے علاقے کی معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
موسمی حالات اور انفراسٹرکچر پر سوالات
یہ سیلاب متحدہ عرب امارات میں غیر معمولی موسمی صورتحال کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ اگرچہ حکام نے پہلے ہی موسمی الرٹ جاری کر دیے تھے، تاہم اجمان میں شہری سیلاب کی شدت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نکاسی آب کے نظام اور شہری تیاری میں ممکنہ کمزوریاں موجود ہو سکتی ہیں۔ماہرینِ موسمیات اور شہری منصوبہ سازوں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں شدید موسمی واقعات پہلے کم دیکھے جاتے تھے، مگر عالمی موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب ان کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی تناظر: موسمیاتی تبدیلی اور شہری استحکام
اجمان کی موجودہ صورتحال دراصل ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں دنیا بھر کے شہر اچانک اور شدید موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں اچانک آنے والے سیلاب ہوں یا یورپ میں آنے والے طوفان، شہری مراکز موسمیاتی عدم استحکام کے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر، مؤثر ہنگامی ردعمل اور بہتر شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔
بحران میں انتظامی کارکردگی کا امتحان
اجمان میں جاری سیلابی صورتحال دو اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے: ہنگامی ردعمل کی رفتار اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی۔ اگرچہ شدید بارش اس بحران کی بنیادی وجہ ہے، لیکن اس کے اثرات کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تیاری اور رابطہ کاری میں بہتری کی ضرورت ہے۔پڑوسی ریاستوں کے ساتھ موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہنگامی حالات میں فوری اقدامات اور وسائل کی مؤثر تقسیم کس قدر اہم ہوتی ہے۔ آئندہ دنوں میں مقامی حکام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں اور تمام علاقوں میں یکساں امدادی اقدامات کو یقینی بنائیں۔