امریکا اور چین میں اعلیٰ دفاعی سائنسدانوں کی پُراسرار اموات اور گمشدگیوں نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ماہرین جوہری ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ہتھیاروں جیسے حساس شعبوں سے وابستہ تھے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں کم از کم 11 ایسے واقعات زیرِ تفتیش ہیں، جہاں سائنسدان یا تو لاپتہ ہوئے یا مشکوک حالات میں ہلاک پائے گئے۔اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کی ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کیس کی چھان بین Federal Bureau of Investigation (ایف بی آئی) کر رہا ہے۔دوسری جانب چین میں بھی کم از کم 9 سائنسدانوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن کی وجوہات میں حادثات، اچانک بیماریاں یا غیر واضح حالات شامل ہیں۔ ان سائنسدانوں کی عمریں 26 سے 68 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایک نمایاں واقعہ 2023 میں پیش آیا، جب بیجنگ میں ایک 38 سالہ فوجی یونیورسٹی کے پروفیسر کار حادثے میں ہلاک ہوئے، جو تائیوان سے متعلق حساس منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
سرکاری بیان میں ان کی موت کو "قومی خدمت کے دوران قربانی" قرار دیا گیا، جس نے مزید سوالات کو جنم دیا۔دیگر واقعات میں مائیکرو الیکٹرانکس، کیمیا، ڈرون ٹیکنالوجی اور ہائپرسونک تحقیق سے وابستہ سائنسدان بھی شامل ہیں، جن کی اموات حالیہ برسوں میں مختلف پراسرار حالات میں رپورٹ ہوئیں۔اگرچہ بعض کیسز کو حادثات یا قدرتی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حساس شعبوں سے تعلق اور اموات کے انداز نے عالمی سطح پر شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔