روسی معیشت مستحکم یا دباؤ میں؟ تیل کی آمدن اور جنگی اخراجات پر اُٹھنے لگے سوالات

روسی معیشت مستحکم یا دباؤ میں؟ تیل کی آمدن اور جنگی اخراجات پر اُٹھنے لگے سوالات

ماسکو: روس کی معیشت کے حوالے سے سرکاری دعووں اور بین الاقوامی رپورٹس کے درمیان واضح تضاد سامنے آ گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔

روسی حکومت کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کے باوجود معیشت مستحکم ہے، شرح نمو برقرار ہے، مہنگائی میں کمی آ رہی ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ہیں۔ حکام کے مطابق 2023ء میں معیشت میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آئندہ برسوں میں بھی یہ شرح 3 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ مزید برآں، ملک کا مجموعی قرض جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد بتایا جا رہا ہے، جو عالمی معیار کے لحاظ سے کم سمجھا جاتا ہے۔دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اور یورپی ماہرین، بشمول سویڈش سیکیورٹی سروس، کا کہنا ہے کہ اصل معاشی دباؤ کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق حقیقی مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے، بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے اور معیشت کا بڑا حصہ قرض اور غیر معمولی اخراجات پر چل رہا ہے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس کو مالی توازن برقرار رکھنے کے لیے تیل کی قیمت کم از کم 100 ڈالر فی بیرل درکار ہے، جبکہ بینکاری شعبے میں بھی دباؤ کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔

تحقیقی اداروں کے مطابق 2022ء کے بعد روس نے کئی اہم معاشی اشاریے شائع کرنا محدود کر دیے ہیں، جبکہ مہنگائی ناپنے کے طریقہ کار میں بار بار تبدیلی اور پرانے ڈیٹا میں بعد ازاں ردوبدل سے شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روس روزانہ تقریباً 47 ارب روبل جنگی اخراجات پر خرچ کر رہا ہے، جبکہ 2026ء تک دفاعی بجٹ 140 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بجٹ خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، جو 2022ء میں 3.29 کھرب روبل سے بڑھ کر 2025ء میں 5.62 کھرب روبل تک جا پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیل اور گیس کی آمدن میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، تاہم روس اب بھی توانائی کے شعبے پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔

دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک روس کی معیشت کو مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اور مثبت معاشی اعداد و شمار کو بھی شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔مجموعی طور پر بین الاقوامی رپورٹس یہ اشارہ دیتی ہیں کہ روسی معیشت پر دباؤ موجود ہے، کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے، افرادی قوت کی کمی سامنے آ رہی ہے اور معیشت کا بڑا حصہ جنگی ضروریات کے گرد گھوم رہا ہے۔ایسے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا یہ دباؤ قابو میں ہے یا مستقبل میں کسی بڑے معاشی جھٹکے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔