سرخ ریت کا طوفان، جسے عام طور پر صحارا ڈسٹ اسٹارم کہا جاتا ہے، صحارا کے ریگستان سے اٹھنے والی سرخ مٹی اور ریت کی ہواؤں سے بنتا ہے۔
یہ طوفان ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر سکتا ہے اور کریٹ کے بعد اب مشرقی بحیرۂ روم اور شمالی افریقہ، خصوصاً لیبیا کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فضائی آلودگی میں اضافہ – ریت اور دھول کے ذرات ہوا میں معلق رہتے ہیں، جس سے فضائی معیار خراب ہو سکتا ہے۔
سانس کے مسائل – دمہ یا دیگر سانس کی بیماریوں والے افراد کے لیے شدید خطرہ، چھینکیں، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
نظر کی کمی اور آنکھوں میں جلن – ریت کے ذرات آنکھوں میں جلن پیدا کر سکتے ہیں، اور کچھ جگہوں پر حدِ نظر محدود ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اثرات – زراعت اور نباتات متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ سرخ مٹی زمین پر جمع ہو جاتی ہے اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس طوفان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آسمان کا رنگ نارنجی سرخی مائل ہو جاتا ہے، جو دیکھنے میں بہت غیر معمولی اور خطرناک لگتا ہے۔یہ طوفان ہر سال مختلف شدت کے ساتھ آتا رہتا ہے، لیکن بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ یورپ تک پہنچ جاتا ہے اور وہاں فضائی آلودگی کے مسائل پیدا کر دیتا ہے۔