ایران کے میزائل حملے میں تل ابیب میں تین افراد زخمی،ایران کا یو اے ای میں منہاد بیس کے قریب خفیہ اڈے پر حملہ،امریکہ و اسرائیل کا وسطی ایران میں مبارکہ سٹیل پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ، 10 نرسیں بھی شہید ہوگئیں
ایران میں حکومت کے حق میں بڑے مظاہرے،صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بھی شرکت، مظاہرین نے پاکستانی عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ‘ 30 دن میں ایران کے خلیجی ممالک پر 5200 میزائیل حملے
ایران نے جنگ روکنے کی اپیل کردی‘ایران اگلے 4 سے5 سال تک جوہری ہتھیار نہیں بناسکے گا، ایران کو دوبارہ تعمیرکرنے میں 15 سے20 سال لگیں گے‘پتھروں کے دور میں دھکیل سکتے ہیں:امریکی صدر
تہران،تل ابیب،واشنگٹن(آئی این پی )ایران کے پاسداران انقلاب نے وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88ویں لہر میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعوی کیا ہے۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ الخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں، اسی علاقے میں امریکا کا ایویکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعوی کیا ہے، متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی کشتی کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیا جو کہ فوجی اڈے سے باہر جا رہی تھی،۔بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے، وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اب امریکا کی اعلی ترین 18 ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے کیونکہ ان ٹیک کمپنیز کی آرٹی فیشل انٹیلی جنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سے ایران میں قتل مہم کے اہداف کا تعین ہوا تھا‘ایران کی پاسدارانِ انقلاب کہا ہے کہ اس نے نئے میزائل سسٹمز کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے،وسطی اسرائیل میں کئی مقامات پر میزائل اہداف پر گرے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 104 اسرائیلی زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے اہم عہدیدار مہدی وفائی کو شہید کرنے کا دعوی کیا ہے‘مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کو کاغذی شیر قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطی میں تنازع کے بعد نیٹو میں امریکہ کی رکنیت پر نظر ثانی کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا، اوہ ہاں، میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ اب نظرثانی سے بھی آگے جا چکا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا میں کبھی بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے اور یہ بات پوتن بھی جانتے ہیں۔برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طیارہ بردار جہاز تھے جو کام ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا امریکہ کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، ڈیل ہو یا نہ ہو ہم ایران جنگ سے نکل رہے ہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا‘ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایران میں رجیم چینج پہلے ہی ہوچکی ہے لیکن رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا بلکہ فوجی کارروائی کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور یہ ہدف حاصل کر لیاگیا ہے‘ ایران اگلے 4 سے5 سال تک جوہری ہتھیار نہیں بناسکے گا، جب وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہوگا تو امریکا میں پھرمیرے جیساکوئی صدرآئیگا اور نیاصدر پھر ایران کو تباہ کردیگاکیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہو۔صدر ٹرمپ نے کہا ایران کو دوبارہ تعمیرکرنے میں 15 سے20 سال لگیں گے، ایران کے پاس نہ نیوی ہے نہ فوج اور نہ ائیرفورس، ایران کے پاس قیادت موجود نہیں،ان کے لیڈرز کا خاتمہ کردیا