امریکہ کی ایرانی جزیرے لارک پر بمباری‘متعدد افراد جاں بحق اردن اوریواے ای میں امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی حملے

جنگ نہیں چاہتے، کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینگے،صدر مسعود پزشکیان‘یو اے ای میںاس  مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے،: ایرانی فوج 
ایران کے خارگ جزیرے کو مکمل تباہ کیا جا رہا ہے، تہران کا خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا مجھے بہت اچھا لگا‘اس کے نتیجے میں ایران کی وہ تمام حمایت ختم ہو گئی جو اسے حاصل تھی:ٹرمپ
تہران،واشنگٹن،لندن(آئی این پی ) ایران نے لارک جزیرے پر  امریکی حملے کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں  امریکی  فوجی تنصیبات پر حملے کئے  ہیں۔عالمی میڈیارپوررٹس کے مطابق  ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے کا جواب دیدیا گیا ہے ۔ اردن میں 2 امریکی اڈوں کوبیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔   ایرانی حملے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔امریکی ذرائع کا دعوی ہے کہ ایران سے فائر کیے گئے تقریبا تمام میزائل فضا میں ہی ناکارہ بنا دئیے گئے۔ اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو مار گرایا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کرنے کا  بھی دعوی کیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج نے اس کارروائی میں اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔ ایران پر حملے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے‘ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دے گا‘ خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں، اس کے نتیجے میں تمام ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔دریں اثناء امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے   امریکی میڈیا فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے تہران کا خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا مجھے بہت اچھی بات لگی‘انہوںنے ایک بار پھر کہا ہے  ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے ایرانی قیادت کو انتہائی پْرتشدد اور برے لوگ قرار دے دیا۔ایران کو ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے آغاز میں جب تہران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا شروع کیا تو سب حیران تھے، میں بھی حیران رہ گیا تھا۔ٹرمپ کے مطابق میں نے اسے ایک بہت اچھی بات سمجھا کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کی وہ تمام حمایت ختم ہو گئی جو اسے حاصل تھی