بھارت نے ایک اور بڑا سیلابی ریلہ چھوڑ دیا، 7 بند ٹوٹ گئے

 8 لاکھ کیوسک کا ریلہ 2 روز بعد ہیڈ مرالہ پہنچ جائے گا، آنے والے سیلابی ریلے کی اطلاع ابھی ملی ، دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں اعلانات کروا رہے ہیں: ضلعی انتظامیہ 
بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف، احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آ گئیں، ریسکیو ٹیموں نے دلہا اور باراتیوں کو سیلاب سے نکال لیا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت نے ایک اور بڑا سیلابی ریلہ چھوڑ دیا، بھارت نے سلال ڈیم کے سارے گیٹ کھول دیے ہیں۔ پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت سے آنے والا سیلابی ریلہ 8 لاکھ کیوسک کا ہے، یہ 8 لاکھ کیوسک کا ریلہ 2 روز بعد ہیڈ مرالہ پہنچ جائے گا۔گوجرانوالہ میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آنے والے سیلابی ریلے کی اطلاع ابھی ملی ہے، دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں اعلانات کروا رہے ہیں، ممکنہ سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر بستی یوسف، احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آ گئیں، متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔دریائے چناب سے جھنگ کے گاؤں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔مظفر گڑھ میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بیشتر لوگ ریلیف کیمپوں میں منتقل نہیں ہوئے، عارف والا میں دریائے ستلج کے سیلابی پانی میں بارات پھنس گئی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق بلاڑہ ارجنکا کے علاقے میں ایک بارات سیلاب میں پھنس گئی، تاہم ریسکیو ٹیموں نے دولہا اور باراتیوں کو سیلاب سے نکال لیا۔دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف، احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آ گئیں۔خیر پور ٹامیوالی کے قریب قاسم والا بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے۔صدر تحصیل میں بھی بڑھتے ہوئے سیلابی ریلے نے کئی چھوٹے بند توڑ دیے، جس سے درجنوں دیہات ڈوب چکے ہیں۔متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق بارات بلاڑہ ارجنکا کے علاقے میں سیلاب میں پھنسی، ریسکیو ٹیموں نے دلہا اور باراتیوں کو سیلاب سے نکال لیا۔ دریائے چناب سے جھنگ کے گاوٓں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔