قطر کی ثالثی بھی کام نہ آئی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پھر ناکام کوئی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں نہیں:امریکی ویب سائٹ

 قطری ثالث نے نیویارک میں ایرانی وزیرخارجہ اوران کی ٹیم سے کئی گھنٹے مذاکرات کئے‘قطری تجویز میں ایران کی ناکہ بندی اور جوہری پروگرام میں ٹھوس رعایتوں کے مطالبات شامل تھے:ویب سائٹ
 ایران کی صورتحال بہت خراب   نہیں معلوم   وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں:ٹرمپ‘ امریکہ  اور اسرائیل  ایران کو جھکانے میں ناکام رہے،، عراق، پاکستان، آذربائیجان اور دیگر دوست ممالک ایران کیساتھ تعاون کر رہے ہیں:صدر مسعود پزشکیان
امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی حصے اور خلیج فارس سے 500 کلومیٹر پیچھے چلے گئے:پاسداران انقلاب کا دعوی‘ فورس نے امریکی عوام کو ٹرمپ انتظامیہ کو اقتدار سے ہٹانے کا مشورہ دے دیا
دوحہ،واشنگٹن(آئی این پی )امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔قطرکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس نے دعوی کیا کہ مذاکرات سے واقف 3 ذرائع کے مطابق دونوں فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، دونوں ممالک میں دوبارہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے۔امریکی صدرٹرمپ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران کیخلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں،  رپورٹ کے مطابق قطری ثالث نے نیویارک میں ایرانی وزیرخارجہ اوران کی ٹیم سے کئی گھنٹے مذاکرات کئے۔قطر کی جانب سے پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا، قطری تجویز میں ایران کی ناکہ بندی اور جوہری پروگرام میں ٹھوس رعایتوں کے مطالبات شامل تھے۔ایگزیوس کے مطابق وائٹ ہائو س مذاکرات میں پیشرفت کے حوالے سے پرامید تھا، واشنگٹن سمجھتا ہے موجودہ صورتحال میں اسے سمجھوتے کی ضرورت نہیں‘دریں اثناء  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائو س میں اے آئی رہنمائو ں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہاکہ ہمیں مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں برتری حاصل ہے اور ہم اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فوجی ذرائع سے ایران کو جھکانے میں ناکامی کے بعد اب ملک کے اندرونی اختلافات کو ہوا دینے اور تقسیم پیدا کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔اپنے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل جنگ سے ایران کو جھکانے میں ناکام رہے، تہران اپنے ہمسایہ اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، عراق، پاکستان، آذربائیجان اور دیگر دوست ممالک ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں‘ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی حصے اور خلیج فارس سے 500 کلومیٹر پیچھے چلے گئے جبکہ   پاسدارانِ انقلاب فورس نے  امریکی عوام کو ٹرمپ انتظامیہ کو اقتدار سے ہٹانے کا مشورہ دیدیا ۔ایرانی میڈیا کے مطابق  پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  ایران پر مسلط کردہ جنگ سے پہلے 30 سے 40 امریکی جہاز خلیج فارس میں موجود تھے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیاں یقینی شکست کو فتح ظاہر کرنے کی کوشش ہیں، امریکی فوج کے پاس طویل جنگ کی صلاحیتیں نہیں۔