صبا ممتاز بانو
وہ ابھی ابھی ایک دو گھروں سے کام کرکے آئی تھی۔ اس کے کپڑے پسینے سے تر بتر تھے۔ جسم بھی پسینے میں ڈوبا ہوا تھا تبھی تو جسم کے کھلے حصوںپر پانی بے دریغ بہہ رہا تھا۔ وہ پنکھے کے نیچے اپنا پسینا سکھانے لگی۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے مسائل بیان کیے جس کا حل میں اپنے تئیں اسے پیش کرتی رہی۔ اس نے بتا یا کہ اس نے بیٹی کو ایک بیوٹی پارلر پر کام سیکھنے کے لیے بٹھا دیا ہے۔ اب وہ خاصا کام سیکھ بھی گئی ہے۔ بیوٹی پارلر کی مالکہ اسے کبھی کبھار پیسے یا خرچہ بھی دے دیتی ہے۔ میںنے اس کے اس امر کی دل کھول کر تعریف کی۔ عورتوںکا معاشی طور پر خود مختار ہونا بہت ضروری ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کا شوہر اور بیٹا کوئی کام نہیںکرتے۔ پھر میں سمجھ گئی کہ اتنی گرمی میں وہ کس لیے لوگوںکے گھروںمیں کام کرتی ہے۔ اپنا پسینہ سکھانے کے بعد وہ اٹھتے ہوئے بولی ،
’’ گرمی بہت زیادہ ہے اور اب تو سوتی کپڑے بھی خالص سوتی نہیں رہے۔ ان میں بھی ریشمی تاروںکی ملاوٹ کردی گئی ہے۔ جو خالص سوتی ہیں۔ وہ بہت مہنگے ہیں۔ وہ ہم کیسے خرید سکتے ہیں۔ اگر خرید بھی لیں تو ان کو گھر میں عام استعمال میں نہیںلاسکتے۔ ‘‘
اس وقت مجھے ایسے لگا کہ وہ میرے دل کی بات کر رہی ہے۔ اس گرمیوں کے آغاز میں ہی میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہی کہ اس ملک کے ٹیکسٹائل ملز والوں نے غریب طبقے سے گرمی کے ٹھنڈے سوتی آرام دہ کپڑے بھی چھین لیے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ ایک کفایت شعار خاتون تھیں۔ وہ ہر گرمی میں کچھ سوٹ ایسے بنایا کرتی تھیں جو سستے ہوتے تھے اور گھر میں عام استعمال کیے جاسکتے تھے۔ باقی سوٹ نسبتا مہنگے ہوتے تھے جو کہ باہر آنے جانے کے لیے رکھے جاتے تھے۔ برسات کے موسم میں تو کئی کپڑے ویسے بھی پھٹ جاتے ہیں۔ گرمیوں کے سوٹ جتنے ہوں ، کم ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں کربلا گامے شاہ گئی تو وہاں ایک سکیورٹی گارڈ خاتون نے مجھے کہا کہ اگر مجھے آپ کے پرانے سوتی یا لان کے کپڑے مل جائیں۔ اس وقت تو میں سلام کے لیے گئی تھی۔ کپڑے میرے پاس نہیں تھے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ملک میں گرمیوں کا موسم زیادہ دیر رہتا ہے۔غریب طبقہ ہر سال گرمیوں کے سوٹ کس طرح بنا سکتا ہے۔ اب تو وہ بھی بہت مہنگے ہیں۔ جو سستے ہیں، ان میں ریشمی دھاگے کی ملاوٹ کرکے غریبوں کو دھوکا دیا گیا ہے کہ اب سستے میں یہی کچھ ملے گا۔
میرے سامنے بیٹھی نرگس نے بظاہر تو سوتی سوٹ پہن رکھا تھا لیکن اس میں بھی ریشمی تار تھی۔گرمیوں کے موسم میں گرم ریشمی تار وںکی ملاوٹ والے کپڑے پہننا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ اسے پہننے والا ہی جان سکتا ہے۔ یہ سوٹ مارکیٹ میں سات سو سے ایک ہزار یا پندرہ سو تک کی رینج میں ہیں۔ ریشمی تاروں سے بنے اس کپڑ ے میں غریب جانیں کیسے ٹھنڈک پاسکتی ہیں۔ ایک غریب کی بنیادی ضرورت روٹی ، کپڑا اور مکان ہے۔ روٹی کے لیے جو آٹا اسے سستا ملتا ہے ، وہ ناقص ہوتا ہے۔ رہا کپڑا تو ٹیکسٹائل ملز والوں نے ایک ایسے ملک میں اسے غریب کے لیے مشکل کردیا ہے جو سوتی کپڑے کے لیے پوری دنیا میں بہترین جانا جاتا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں۔
سوت مہنگا ہے۔ ریشم سستا ہے۔ یا پھر آپ سوچتے ہیں کہ غریب یہ ریشمی تار والا کپڑا خریدے تو دو چار سال گزر جائیں۔ غریب کے ساتھ ایسی بھلائی نہ کریں جو ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ مکان تو ویسے بھی اب غریب کے لیے ایک خواب ہے۔
جون جولائی کی تپتی دوپہریں، بجلی کی آنکھ مچولی، پسینہ اور جسم پر چپکے ہوئے کپڑے۔یہ سب ہمارے معاشرے کے عام فرد، خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ گرمیوں میں
جسم کی راحت کا سب سے بڑا سہارا خالص سوتی کپڑا ہوتا ہے، جو جلد کو سانس لینے دیتا ہے اور پسینے کے ساتھ چپکتا نہیں۔ مگر افسوس، اب یہ سادہ سوتی کپڑا بھی ’برانڈڈ لگڑری‘ بن چکا ہے۔اس میں دو طرح کا کپڑا آرہا ہے۔ ایک وہ جو خالص سوتی ہے۔ دوسرا وہ جس میں ریشمی ٹچ ہے۔بازار جائیں تو ہر دوکاندار یا برانڈ کہتا ہے: "یہ لان ہے، مگر ریشمی ٹچ کے ساتھ" یا "یہ خالص سوتی ہے مگر سلک تھریڈ کا کام ہے"۔ یہ ’ریشمی ٹچ‘ یا ’سلک تھریڈ‘ درحقیقت گرمی کے موسم میں عام ا?دمی کے لیے اذیت بن چکا ہے۔ یہ دھاگے نہ صرف جلد پر چبھتے ہیں بلکہ گرمی کو اور بڑھا دیتے ہیں۔یہ کچھ امرا کے لیے بھی تکلیف کا باعث ہیں۔
غریب یا متوسط طبقے کی خواتین جو سستا سوتی نما کپڑا خریدتی ہیں، و ہ نہ صرف جلد پر الرجی کا باعث بنتا ہے بلکہ انہیں روزمرہ کاموں میں تکلیف دہ صورتحال کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ پھر دھلائی کے بعد یہ کپڑے اور بھی سخت ہو جاتے ہیں، اور چند دھلائیوں میں اپنی اصل خوبصورتی کھو بیٹھتے ہیں۔گرمی کے موسم میں کپڑے کی خوب صورتی سے زیادہ اس کا ٹھنڈا اور کسی قدر خوشنما ہونا دیکھا جاتا ہے مگر اب وہ دن بھی گئے۔سوال یہ ہے کہ خالص سوتی کپڑا آخر کہاں گیا؟ جواب سیدھا ہے: اب وہ صرف برانڈ اسٹورز میں دستیاب ہے، اور وہ بھی انتہائی مہنگے داموں۔ سادہ سا خالص سوتی سوٹ بھی ہزاروں روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جسے ایک مزدور، گھریلو ملازمہ یا کم تنخواہ دار خاتون کبھی افورڈ نہیں کر سکتی۔
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب کپڑا بھی طبقاتی فرق کا شکار ہو چکا ہے۔ گرمیوں میں جسم کو راحت دینے والا کپڑا اب صرف امیروں کی پہنچ میں ہے۔ وہ امیر جو کہ گرمیاں باہر کے ممالک ، سرد علاقوں یا پھر اے سی میں گزارتے ہیں جبکہ غریب، جنہیں سب سے زیادہ سوتی ٹھنڈے لباس کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے گرمیوں میں ایسی میں کام نہیں کرنا ہوتا۔باہر کے کاموں کے لیے بھی ان کے پاس کوئی ملازم نہیں ہوتا۔
وہ مصنوعی دھاگوں، ریشمی کام، اور گرمی بڑھانے والے فیشن زدہ کپڑوں میں لپٹے، پسینے سے شرابور، اپنے دن گزار رہے ہیں۔ریاست، صارفین کے حقوق کی تنظیمیں اور سوشل ادارے کب اس جانب توجہ دیں گے؟ کیوں نہیں کوئی ایسا قدم اٹھایا جاتا جس سے خالص سوتی کپڑا ایک بار پھر سستے داموں بازاروں میں دستیاب ہو؟ کیوں ہر چیز کو ’فیشن‘ اور ’برانڈ‘ کے لیبل میں لپیٹ کر عوام کی بنیادی ضرورتوں کو نظرانداز
کیا جاتا ہے؟
آپ کو کمانے کا حق ہے لیکن غربا یا متوسط طبقے کی جانوں کو دائو پر لگا کر مت کمائیں۔ وہ تو پہلے ہی کئی بیماریوں کا آسان شکار ہیں۔ اب آپ نے بھی انہیں پریشان کرکیرکھ دیا ہے۔ آپ انہیں رنگ برنگ ڈئزائن بھلے نہ دیں۔ مگر انہیں سوتی کپڑے کی نرم لطافت سے محروم نہ کریں۔ یہ ان کی عادت یا شوق سے زیادہ ان کی جان اور صحت کا مسئلہ ہے۔ جسے انسانی بنیادوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گرمیوں کی خالص لان ، کاٹن بہت ضروری ہے۔
اگر ہم واقعی ایک صحت مند، باوقار اور موسمی حقیقتوں سے ہم آہنگ معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں سادگی، افادیت اور سچائی کی طرف لوٹنا ہوگا اور ا س کی ابتدا شاید ایک خالص سوتی کپڑے سے ہی ہو۔اس خالص سوتی کپڑے سے جسے آپ نے امرا کے لیے مخصوص کردیا ہے اور غریبوں کی پہنچ سے دور کردیا ہے۔