غلام علی جاوید
صحافی معاشرے کے لئے قلب، آنکھ، بقاء، غیرت،ضمیر اورسچے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ میں موجودہ دور کا صحافی ہوں۔یہ بھی علم ہے کہ صحافت جہد پیہم میں پنہاں ہے۔ میں مولانا ظفر علی نہیں ہوں ، میں قوم پرست شاعری کر کے قوم کو نہیں جگا سکا مگر میں نے موجودہ دور کے قومی مفادات کی جنگ ضرور لڑی ہے۔ میں مولانا حسرت موہانی نہیں بن سکا ، میں نے زمیندار اخبار نہیں نکالا کیونکہ میری جیب نے میرا ساتھ دینے سے عاجزی اختیار کی ہے ۔ انقلاب زندہ باد کا نعرہ نہیں لگایا لیکن غربت کی چکی میں پستی ہوئی مخلوق کی چیخوں کو سپر دِ قلم ضرور کیا ہے۔میں عبدالمجید سالک جیسا صحافی نہ سہی، میری علامہ اقبال سے دوستی نہ سہی مگر میںنے قومی اقدار و روایات پر پورا پہرہ دیاہے۔مجھ میں چراغ حسن حسرت جیسا مزاح نہیں کیوں کہ یہ عطائے خدا ہے جس کو عطا کردے۔ مگر ان کے نظریے پر عمل پیرا رہا ہوں ۔ کبھی بھی گمراہ کن خبروں کو جلا نہیں بخشی ۔نواب بہادر یار جنگ جیسے علم سے مالا مال نہ سہی مگر میں نے خبروں میں غلط بیانی کا سہارا نہیں لیا۔میں نے اپنے قلم کو اپنی ہی قوم کے لئے تلوار نہیں بنایا، نہ ہی قلم کی زبان لمبی رکھی ہے۔نہ ہی کسی کے ذاتی عیبوں کا پردہ چاک کیا ہے۔نہ ہی چادرو چاردیوراری کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ عروج زہرہ جیسی ملی خدمات سر انجام نہیں دے سکا مگر کبھی اپنے مظلوم کشمیریوں کو نہیں بھولا۔کشمیریوں کی بے بسی کی منہ بولتی تصویرکو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
میں نے کبھی بھی تحقیق و تصدیق سے مبرا خبر نہیں دی۔ میں نے جانبداری کا لبادہ نہیں اوڑھا ۔میرا قلم بکا نہیں ، میرا سر جھکا نہیں ، میرا نظریہ مغلوب نہیں ۔فیک نیوز میرا شیوہ نہیں۔مجھے بتائیں خبر کی کھوج میں پاکستان کے کس کونے میں نہیں گیا ؟میں نے کس مشکل گھڑی میں اپنا سر چھپایا ؟ دنیا نے دیکھا میں حالات کی آگاہی کے لئے زلزلوں کی دراڑوں کے بیچ بھاگا ، سیلابی لہروں کے ساتھ بہا، خشک سالی میں خشک حلق اور خشک گلے سے خبریں دیں، دہشت گردی کے طوفان میں گولیوں کی تر تراہٹ میںنہ میرا قلم رکا نہ میرا مائیک جھکا ، خود کش حملوں اور جنگوںمیں بھی آپ کا محب وطن صحافی اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ رہا اور بارش کی تباہ کاریوں میںبھی لمحہ با لمحہ خبر دینے میں پیچھے نہیں رہا۔ ملک کے دفاع میں میرا قلم ہراول دستے سے کم نہیں رہا ۔ میری زبان ملکی ترجمان رہی ہے۔
آپ کو معلوم ہے نا !اس معاشرے میں غربت سڑکوں پر ناچتی نظر آتی ہے۔ تیس تیس روپے کے لئے لوگ قتل ہوتے ہیں ۔غریب لوگ غریب تر ہوتے جا رہے ہیں اور امیر بادشاہی کی سیڑھیوں پر چڑھتے جا رہے ہیں۔میں بھی اسی معاشرے کا بشر ہوں اور بچے بھی اسی ماحول میں پرورش پارہے ہیں ۔کچھ میری ضرورتیں ہیں کچھ میرے بچوں کی معصوم خواہشیں ہیں ، مجھے اپنے بچوں کے ساتھ جینا ہے، انہیں پڑھانا ہے۔ مجھے ان کے اداس چہرے پریشان کرتے ہیں ۔ اُن کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پورا کرنے کے لئے تڑپتا ہوں ۔ میں زندگی کی اِس کش مکش میں روز جیتا مرتا ہوں۔مجھے اپنے مارے جانے کا ڈر رہتا ہے پر ڈرا نہیں ۔ میرے اغواء کی سر گوشیاں میری مہمان رہتی ہیں اور میں کتراتا نہیں ۔ میرا خاندان خطرے کی نوک پر ہے پر میں ڈگمگایا نہیں ۔مجھے بولتے ہوئے سنتے توہوں گے سچ پر میری زبان لڑ کھڑاتی نہیں ۔ مجھے مالی مشکلات رہتی ہیں، میری مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ، سالوں سال میرا معاشی استحصال ہوتا ہے، معاوضہ پورا دیا نہیں جاتا ، تنخواہ کئی کئی ماہ تک منہ چھپا کے رکھتی ہے، میرے بچے میرا منہ تکتے ہیں پر میں کسی کی جیب کو تکتا نہیں۔
میں بلیک میلر نہیں۔میں نے صحافیانہ اخلاقیات کا جنازہ نہیں نکالا۔تحقیق کا دامن نہیں چھوڑا۔ سچی کھری صحافت میرا عقیدہ ہے۔ مظلوم کی مدد میری عبادت ہے۔ قانونی مسائل مجھے گھورتے ہیں پر میں سینہ تانتا ہوں ، کٹھن راہوںکی آنکھ میں آنکھ ڈالتا ہوں۔میں ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی مجبوریوں سے واقف ہوں ، مجھے فوری خبر درکار ہوتی ہے مگر میں نے خبر کا معیار گرایا نہیں ۔ میرا قلم ، میرا مائیک میرا تقدس ہے۔ میں اپنے مقدس پیشے کا پاسبان ہوں۔ مجھ پر خبر روکنے اور بدلنے کا دبائو رہتا ہے پر کبھی حقیقت کو بدلا نہیں ۔میں سچے کھرے صحافیوں کا پیرو ہوں۔میری صحافت جمہوریت کی ضامن ہے، شفافیت کی آئینہ دار اورصداقت میری پہچان ہے۔
مہذب صحافی میرے دوست ہیں، باشعورشخصیات میرا حلقہ احباب ہیں ، جمہوری قدریں ہماری منزل ہیں ، قومی فکری سرحدوں کا تحفظ ہمارا مشغلہ ہے،سچ کی کھوج مقصد ِ زندگی ہے۔ہمیں بدعنوانی کا گلا دبانا ہے ، معاشرتی صداقت پروان چڑھانی ہے، عوامی شعور اجاگر کرنا ہے اور مظلومیت کا سہارا بننا ہے۔ ہم نے صحافتی اصولوں کی ورق گردانی کی ہے۔ہم نے شوقیہ مائیک پکڑا نہیں ۔ ہم خود ساختہ یوٹیوبر صحافی نہیں ہیں۔ ویوور شپ ہمارا مقصد نہیں ۔ہم غیر ذمہ داری کے بے لگام گھوڑے پر سوار نہیں۔ ہم نے کسی ذاتی زندگی میں جھانکا نہیں ۔