بوسنیا سے غزہ تک انسان تو ایک جیسے ہیں

صبا ممتاز بانو
تاریخ ہمیشہ سچ اور جھوٹ کا عکس ہوتی ہے۔ تاریخ دراصل ایک آئینہ ہے، جو ہمیں نہ صرف گزرے ہوئے واقعات دکھاتی ہے بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کے فیصلے کرنے میں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ غزہ بوسنیا میں ایک ہی جیسے حالات ہیں۔
بوسنیا کی جنگ اور آج غزہ کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس آئینے میں جھانکنا ہوگا۔
بوسنیا کی جنگ 1990 کی دہائی میں یورپ کے عین وسط میں برپا ہوئی، جہاں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ایک ہولناک تصادم دیکھنے میں آیا۔ اس جنگ میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، اور انسانیت شرمندہ ہوئی۔ خاص طور پر سربرنیتسا کا سانحہ اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہے کہ جب عالمی طاقتیں بروقت اقدام نہ کریں تو ظلم کس قدر بے قابو ہو سکتا ہے۔مگر جب عالمی طاقتیں خود نسل کشی میں ملوث ہو جائیں تو انسانیت داغدار ہو جاتی ہے۔
آج غزہ کی صورتحال بھی عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔مگر عالمی طاقتوں کی بے حسی نے ہی اس ظلم کو فروغ دیا ہے ورنہ یہ حشر نہ ہوتا۔ محاصرہ، بنیادی ضروریات کی قلت، اور مسلسل جانی نقصان نے وہاں کی زندگی کو ایک مستقل خوف میں بدل دیا ہے کہ جس میں ان سے ایک ہی تقاضا ہے کہ وہ اسرائیل کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔اس کے لیے سب سے پہلے غزہ پر قبضہ ضروری ہے۔چونکہ اہل غزہ اپنی جانیں دے کر بھی ہار نہیں مان رہے۔تو ضروری ہو جاتا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
کیا یہی کچھ بوسنیا میں نہیں ہوا تھا
۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بوسنیا اور غزہ کے درمیان مماثلتیں تلاش کرتے ہیں—خاص طور پر عالمی اداروں کی سستی اور سیاسی مصلحتوں کے تناظر میں چھپی منافقتیں۔
تاہم، یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ ہر تنازعہ اپنی نوعیت میں الگ بھی ہوتا ہے۔ بوسنیا کی جنگ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہونے والے نسلی تصادم کا نتیجہ تھی، جبکہ غزہ کا مسئلہ ایک طویل سیاسی، تاریخی اور علاقائی کشمکش سے جڑا ہوا ہے۔جس میں مذہبی حوالے بھی بہت اہم ہیں۔ ان دونوں کو مکمل طور پر ایک جیسا قرار دینا اتنا آسان نہیں۔
اس کے باوجود، ایک بنیادی حقیقت دونوں جگہ یکساں ہے: عام انسان کی تکلیف۔ جب معصوم شہری نشانہ بنتے ہیں، جب بچے خوف میں پروان چڑھتے ہیں، اور جب خواتین عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں، تو یہ کسی ایک قوم یا خطے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کا المیہ بن جاتا ہے۔یہی المیہ غزہ،ایران، افغانستان اور خود اسرائیل میں بھی رونما ہوتا ہے جب انسان مرتے ہیں۔ہم قیادت کو کھو دیتے ہیں
بوسنیا کی جنگ المیہ ہے کہ عالمی خاموشی بھی ایک طرح کی شراکتِ جرم ہوتی ہے۔  انصاف میں تاخیر انسانیت کو برباد کرتی ہے۔انصاف  کا حصول ممکن ہے—بشرطیکہ عالمی نظام واقعی انصاف کے اصولوں پر قائم ہو۔ اسی طرح، غزہ کا بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی حقوق کی بات تب ہی معتبر ہوتی ہے جب اسے بلا امتیاز نافذ کیا جائے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کو صرف جذباتی نعروں کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ اس سے سیکھیں۔ ہمیں اپنی آواز کو مضبوط بنانے کے لیے حقائق، توازن اور ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ مؤثر آواز وہی ہوتی ہے جو سچائی پر مبنی ہو اور جس میں جذبات کے ساتھ دلیل بھی شامل ہو۔
  بوسنیا اور غزہ ایک جیسے ہیں یا نہیں—بلکہ بات یہ ہے کہ انسان تو ایک جیسے ہیں۔خون تو ایک جیسا ہے۔انسانوں کی امیدیں، خواہشات اور خواب تو ملتے جلتے ہیں۔