مولانا عبدالغفور حیدری، جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی، کے بیانات پر مبنی ہے، جو انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیے۔
امریکا کو ہوائی اڈے دینے پر تنقید:
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ امریکا کو پاکستان میں ہوائی اڈے دینے سے خطے میں امن تباہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران امریکا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو رفتہ رفتہ چلیں اور میٹھی باتوں میں پاکستان کو دوبارہ استعمال نہ کیا جائے۔
چین کے ساتھ تعلقات:
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور سنکیانگ میں مسلم اکثریت والے صوبے کی ترقی کے لیے 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ رکھتا ہے۔مولانا عبدالغفور نے کہا کہ اگر چین اپنے مسلم صوبے کے لیے ترجیح دے رہا ہے تو پاکستان کو بھی چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔
ماضی میں امریکا کے ساتھ تعلقات:
انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا کی دوستی مہنگی پڑی، جبکہ چین نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی۔امریکا اور بھارت کے مداخلتی اقدامات پر بھی تنقید کی گئی۔
پاکستان میں داخلی مسائل:
بلوچستان کے حالات کی بہتری کے لیے وفاق کی عدم توجہ پر تشویش ظاہر کی گئی۔مولانا نے تفتان تک سنگل شاہراہ کی حالت پر تشویش ظاہر کی، جس سے حادثات ہوتے ہیں۔
سعودی عرب اور دفاعی معاہدے:
جے یو آئی نے سعودی عرب کے معاہدے کو مثبت قرار دیا اور امت مسلمہ کی یکجہتی پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر مسلم ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں تاکہ کسی بھی مسلم ملک پر حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع ممکن ہو۔
اسرائیل اور فلسطین:
مولانا نے اسرائیل کے فلسطین میں مظالم پر تنقید کی اور کہا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہوا تو اس میں مذکورہ معاہدے کی اہمیت بڑھ جائے گی۔یہ بیانات جے یو آئی کے موقف، پاکستان کے خارجی تعلقات اور خطے میں امن و امان کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔