ممبئی عدالت کی مالائکہ اروڑہ کو وارننگ: اگلی پیشی پر غیر حاضری ناقابلِ ضمانت وارنٹ کا سبب بن سکتی ہے

ممبئی عدالت کی مالائکہ اروڑہ کو وارننگ: اگلی پیشی پر غیر حاضری ناقابلِ ضمانت وارنٹ کا سبب بن سکتی ہے

ممبئی کی ایک عدالت نے بالی ووڈ اداکارہ مالائکہ اروڑہ کو 2012 کے ہوٹل جھگڑا کیس میں بار بار غیر حاضری پر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئیں تو ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا جائے گا۔

عدالت کی آخری مہلت
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت نے مالائکہ اروڑہ کو گواہ کے طور پر طلب کیا تھا، لیکن وہ 29 اپریل 2025 کو ہونے والی سماعت پر بھی پیش نہیں ہوئیں۔ عدالت پہلے ہی ان کے خلاف قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر چکی ہے، مگر ان کی جانب سے مسلسل عدم تعاون پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے ایس زانور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"مالائکہ اروڑہ عدالت کی کارروائی سے جان بوجھ کر گریز کر رہی ہیں۔ ان کے وکیل عدالت میں موجود تھے لیکن اداکارہ خود نہیں آئیں، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔"
آئندہ سماعت 9 جولائی کو
عدالت نے اب 9 جولائی 2025 کی تاریخ دی ہے، جو مالائکہ کے لیے آخری موقع قرار دی گئی ہے۔ اگر وہ اس دن بھی پیش نہ ہوئیں تو ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ 22 فروری 2012 کو جنوبی ممبئی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پیش آنے والے واقعے سے جڑا ہوا ہے، جس میں معروف این آر آئی تاجر اقبال شرما نے بالی ووڈ اداکار سیف علی خان، ان کے دوستوں شکیل لادک اور بلال امرہوی پر حملے کا الزام لگایا تھا۔شرما کے مطابق، جھگڑے کے دوران سیف علی خان نے ان پر حملہ کیا، جس سے ان کی ناک کی ہڈی فریکچر ہو گئی۔ اس موقع پر کرینہ کپور، کرشمہ کپور، مالائکہ اروڑہ، ان کی بہن امرتا اروڑہ اور دیگر قریبی دوست بھی وہاں موجود تھے۔

گواہی اہم، عدالتی کارروائی متاثر
چونکہ مالائکہ اروڑہ موقع پر موجود افراد میں شامل تھیں، اس لیے ان کی گواہی اس مقدمے میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عدالت ان کی غیر حاضری کو عدالتی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ تصور کر رہی ہے۔