اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ٹوٹ گئی، اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ٹوٹ گئی، اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک

اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ حماس کا یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار اور جنگ بندی کی شرائط پر مذاکرات میں ناکامی بتائی گئی ہے۔

 منگل کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں حماس کے رہنماؤں سمیت متعدد عام شہری بھی شامل ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ حماس نے بار بار اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کو مسترد کیا، جس کے بعد اسرائیل نے فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔حکام کے مطابق، آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) نے حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان حملوں میں حماس کے اہم رہنماؤں، جیسے عصام دالیس اور محمود ابو وتفہ، سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ غزہ کے وزارت صحت کے مطابق، 562 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔امریکہ نے اسرائیل کے ان حملوں کی حمایت کی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس پر مشاورت کی تھی۔

دوسری طرف، حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کی اپیل کی ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی تقریباً دو ماہ تک برقرار رہی تھی، تاہم حماس کے رویے نے اس کی مدت کو ختم کر دیا۔ اسرائیل کا مقصد حماس کے زیر انتظام علاقے سے مکمل انخلا اور یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ کو ختم کرنا تھا، لیکن حماس نے ان شرائط کو مسترد کیا۔اسرائیل نے اس کے بعد اپنی فوجی کارروائی کو بڑھا دیا ہے اور غزہ کے سرحدی علاقوں میں عوام کو انخلاء کی ہدایت بھی کی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔