بھارتی شہر لکھنؤ میں سوشل میڈیا انفلوئنسر مانسی کی اپنے سسرال میں پراسرار موت کے بعد جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور قتل کے شبہے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متوفیہ مانسی کا تعلق کانپور سے تھا اور اس کی شادی 2024 میں ساگر راجپوت سے ہوئی تھی۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اسے جہیز، خصوصاً گاڑی کے مطالبے پر مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔خاندان کا کہنا ہے کہ شادی کے وقت 7 لاکھ روپے نقد اور گھریلو سامان دیا گیا تھا، تاہم سسرال والے اس پر مطمئن نہیں تھے اور مزید جہیز کا مطالبہ کرتے رہے۔اہلِ خانہ کے مطابق مانسی اپنی مشکلات کے بارے میں بارہا انہیں آگاہ کرتی رہی اور معاملہ حل کرنے کے لیے وہ متعدد بار لکھنؤ بھی گئے، مگر صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔
گزشتہ ہفتے مانسی کی موت کی اطلاع ملی، جس کے بارے میں اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل ہے۔پولیس نے اس واقعے پر شوہر ساگر راجپوت سمیت 6 افراد کے خلاف جہیز کی وجہ سے موت کا مقدمہ درج کیا ہے، جن میں سسر راجیش، دیور انو، نندیں برکھا اور چاندنی جبکہ پھوپھی ساس آشا بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ساگر راجپوت سے حراست میں پوچھ گچھ جاری ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔