اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کیس میں مقتولہ کے والد یوسف حسن نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
بیان کے مطابق یوسف حسن نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی ثنا یوسف کے ساتھ سیکٹر جی-13 میں رہائش پذیر تھے۔ ثنا یوسف ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر تھیں اور آن لائن سرگرمیوں میں متحرک رہتی تھیں۔مقتولہ کے والد نے بتایا کہ واقعے والے دن وہ کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھے، شام کو ان کی اہلیہ نے کال کی اور اطلاع دی کہ نامعلوم شخص نے ان کی بیٹی کو گولی مار دی ہے۔ ثنا یوسف کو فوری طور پر کے آر ایل ہسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی عملے نے معائنہ کے بعد انہیں مردہ قرار دیا اور پولیس سے رابطہ کرنے کا کہا۔
یوسف حسن نے عدالت کو بتایا کہ ثنا یوسف کی ڈیڈ باڈی بعد میں پمز ہسپتال منتقل کی گئی، جہاں پولیس کے سامنے مکمل بیان ریکارڈ کروایا گیا۔ انہوں نے بیٹی کا موبائل فون بھی پولیس کے حوالے کیا اور جائے وقوعہ کی رپورٹ بھی پولیس نے تیار کی۔عدالت میں والد کے بیان کے بعد کیس کی مزید سماعت آگے بڑھائی جائے گی اور متعلقہ شواہد اور تفتیشی رپورٹوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔