ایرانی صدر کے استعفیٰ کی افواہوں پر تہران کا شدید ردعمل، خبریں مسترد

ایرانی صدر کے استعفیٰ کی افواہوں پر تہران کا شدید ردعمل، خبریں مسترد

ایرانی حکومت نے غیر ملکی میڈیا میں گردش کرنے والی مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

ایران کی انفارمیشن کونسل کے سربراہ الیاس حضرتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر کے استعفے یا عہدہ چھوڑنے سے متعلق تمام دعویٰ جات حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں۔انہوں نے خبروں کو پھیلانے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانیے کا مقصد ایران میں سیاسی بے چینی اور غلط فہمیاں پھیلانا ہے، مگر ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق انجام دے رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں آئی ہے۔قبل ازیں، بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر نے مبینہ طور پر استعفیٰ سپریم لیڈر کے دفتر کو بھیجا ہے اور حکومت کے اندر اختلافات بڑھ رہے ہیں، تاہم تہران کی جانب سے ان تمام رپورٹس کو محض افواہیں اور پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔