فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، صدر میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کردیا

فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، صدر میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کردیا

پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں پُرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد وزیر داخلہ لوراں نونیز کی جانب سے استعفیٰ دینے کی پیشکش مسترد کردی ہے۔

 صدارتی دفتر کے مطابق صدر نے وزیر داخلہ کو پولیس اور سکیورٹی اداروں میں کمان کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اپنے فرائض جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدارتی دفتر نے پیر کو بتایا کہ ایمانوئل میکرون نے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ لوٹ مار اور پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد نئے طریقۂ کار تیار کیے جائیں تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنائی جاسکے۔

حکومت کو امن و امان کی صورتِ حال پر دباؤ کا سامنا
فرانس میں حالیہ احتجاج مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات، سرکاری خدمات میں خرابی اور تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات کم کرنے اور تعلیم سمیت بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ابتدا میں احتجاج کا محور معاشی اور سماجی مسائل تھے، تاہم ہفتے کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے پُرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگئے۔ متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو صورتِ حال قابو میں رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

ٹاؤن ہال کو آگ، دکانوں میں لوٹ مار
مظاہروں کے دوران بعض مظاہرین نے ایک ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی، جبکہ مختلف دکانوں میں لوٹ مار کی گئی۔ بعض عمارتوں پر نعرے اور تحریریں بھی درج کی گئیں۔کئی مقامات پر پولیس اور پُرتشدد گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس سے صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی۔ ان واقعات نے شہری املاک کے تحفظ اور عوامی مقامات پر سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تشویش پیدا کردی۔لیموج شہر میں تاریخی سٹی ہال کو آگ لگنے کا واقعہ بھی ان واقعات میں نمایاں رہا۔ اس آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کی چھت کو شدید نقصان پہنچا اور تقریباً 43 میٹر بلند گھڑی والا مینار گر گیا۔ 1883 میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت شہر کے تاریخی ورثے کی اہم علامت تھی۔

پیرس اور مارسیلے میں بھی کشیدگی
اتوار کو فرانس کے دارالحکومت پیرس اور شہر مارسیلے میں بھی کشیدگی دیکھی گئی۔ پولیس نے کاروباری مراکز کو لوٹنے کی کوششیں روکنے کے لیے کارروائی کی اور صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کی۔مختلف شہروں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ عوامی تحفظ یقینی بنانے، پُرتشدد سرگرمیوں کو روکنے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرے۔

میکرون کا وزیر داخلہ پر اعتماد برقرار
صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے لوراں نونیز کا استعفیٰ مسترد کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت موجودہ صورتِ حال میں سکیورٹی اداروں کی قیادت اور کمان کے تسلسل کو اہم سمجھتی ہے۔صدارتی دفتر کے مطابق وزیر داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھتے ہوئے لوٹ مار اور پُرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے نئے اقدامات تیار کریں۔تاہم حکومت کے لیے چیلنج صرف امن و امان بحال کرنا نہیں بلکہ ان معاشی اور سماجی مسائل کا حل تلاش کرنا بھی ہے جن کے باعث عوامی احتجاج شروع ہوا۔ مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور سرکاری خدمات سے متعلق شکایات پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی بے چینی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔