کراکس: وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 2 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق آفٹر شاکس کی شدت اور تعداد میں کمی آنے کے بعد امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے ٹیلی وژن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زلزلوں میں 10 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 15 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔انہوں نے لاپتا افراد کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی، تاہم اپوزیشن کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 40 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔یاد رہے کہ 24 جون کو وینزویلا میں ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے تھے، جن سے متعدد عمارتیں منہدم، اہم شاہراہیں متاثر اور ملک کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔حکام کے مطابق دنیا کے 50 سے زائد ممالک سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں وینزویلا پہنچ چکی ہیں اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے سینکڑوں ٹن انسانی امداد بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جا رہی ہے۔
حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے 69 عارضی پناہ گاہیں قائم کی ہیں، جن میں 14 لا گوائرا جبکہ دیگر کیمپ کاراکاس، میرانڈا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عارضی کیمپوں میں مقیم افراد کو جلد مستقل رہائش فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔زلزلوں کے بعد دارالحکومت کاراکاس اور دیگر شہروں میں خوف کی فضا برقرار ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں آفٹر شاکس کی شدت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ بہت سے شہری احتیاطاً ہنگامی بیگ تیار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ بڑے جھٹکے کے خدشے کے پیش نظر محتاط زندگی گزار رہے ہیں۔حکام کے مطابق لا گوائرا میں بجلی کی فراہمی تقریباً مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے، تاہم ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تاحال جزوی طور پر متاثر ہیں، جبکہ بحالی کا عمل مسلسل جاری ہے۔