وینزویلا: تباہ کن زلزلوں کے 8 روز بعد ملبے تلے دبا شخص زندہ نکال لیا گیا

وینزویلا: تباہ کن زلزلوں کے 8 روز بعد ملبے تلے دبا شخص زندہ نکال لیا گیا

کاراکاس: وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن دوہرے زلزلوں کے آٹھ روز بعد ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے دبے ایک شخص کو زندہ نکال لیا، جسے امدادی کارکنوں اور اہلِ خانہ نے کسی معجزے سے کم قرار نہیں دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 43 سالہ سکیورٹی گارڈ ہرنان گل ساحلی شہر کاتیا لا مار میں ایک سات منزلہ عمارت کے ملبے تلے پھنس گئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے مسلسل 72 گھنٹے تک آپریشن جاری رکھا اور بالآخر انہیں زندہ باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ شخص کی موجودگی کا سراغ تین روز قبل مل گیا تھا، جس کے بعد وینزویلا، چلی، امریکا، پرتگال، کوسٹا ریکا، ایل سلواڈور اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والی امدادی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ امدادی کارکنوں نے تقریباً تین میٹر لمبی سرنگ بنا کر ہرنان گل تک رسائی حاصل کی، جبکہ اس دوران انہیں آکسیجن اور پانی بھی فراہم کیا جاتا رہا۔ہرنان گل کی اہلیہ نے شوہر کی بحفاظت بازیابی کو "معجزہ" قرار دیتے ہوئے امدادی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔حکام کے مطابق 24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اب تک کم از کم 2,295 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 11 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 58 ہزار عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ لا گوائرا سمیت کئی متاثرہ علاقوں میں متعدد عمارتوں پر "D" کا نشان لگا دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں زندہ افراد کے ملنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔امدادی اداروں کے مطابق اب کارروائی کا مرکز زندہ افراد کی تلاش سے ہٹ کر انسانی امداد، عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور متاثرین کی بحالی پر منتقل ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری امداد نہ پہنچی تو متاثرہ علاقوں میں بیماریوں، غذائی قلت اور صحت کے سنگین بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عالمی اداروں نے وینزویلا کے لیے مزید مالی اور انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تباہ کن زلزلوں کے اثرات سے مکمل بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ لاکھوں متاثرین کو طویل عرصے تک بین الاقوامی تعاون اور امداد کی ضرورت رہے گی۔