لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک سانحے کے بعد پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، جہاں حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید سات بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ آج کچھ دیر بعد ادا کی جائے گی۔
گزشتہ رات سات بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا تھا، جبکہ آج بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جنازہ گاہ پہنچ رہی ہے۔المناک حادثے کے باعث علاقے کی دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں اور ہر طرف غم کی فضا قائم ہے۔نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ رات بھر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات رہی، جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی مسلسل متحرک رہی۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں روشنی، صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا خصوصی انتظام کیا گیا، جبکہ لاشوں کی منتقلی کے لیے شہرِ خموشاں کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں۔ ستھرا پنجاب کی ٹیمیں بھی صفائی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔دوسری جانب جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں زخمی خاتون ٹیچر اور بچوں کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ادھر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے زخمی مالک مکان، خاتون ٹیچر کے شوہر ریحان، اس کے بھائی فیضان اور چھت پر کام کرنے والے مزدور عمیر کو تحویل میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے سانحے کے بعد صوبے بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دیگر نجی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت جاری کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔